i بین اقوامی

آبنائے ہرمز میں ایران کے نئے نظامِ ادائیگی نے دنیا کی تیل سپلائی روک دیتازترین

April 22, 2026

ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کیلئے پیشگی منظوری اور فیس کی ادائیگی کا نیا نظام عالمی معیشت پر اثر انداز ہونا شروع ہو گیا ۔ عرب میڈیارپورٹس کے مطا بق دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک میں نمایاں کمی آئی ہے جس نے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال غیر متوقع نہیں ہے کیونکہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اس اہم آبی گزرگاہ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ اپنی شرائط منوا سکے، اور یہی وجہ ہے کہ توانائی کی عالمی منڈی ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔فرانس کے مشہور بزنس اسکول انسیڈ میں معاشیات کے پروفیسر انتونیو فیٹاس نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کا فیصلہ ایک خوش آئند خبر ہے کیونکہ اس سے فی الحال ایک بڑی جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن اس معاہدے کی تفصیلات اور مختلف فریقین کی اپنی اپنی تشریحات کی وجہ سے غیر یقینی کی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے جنگ بندی کے آغاز سے ہی ایک ایسا نظام نافذ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جس کے تحت جہازوں کو گزرنے کے لیے اجازت درکار ہوگی اور ٹیکس کی ادائیگی بھی کرنا ہوگی، اور اس اقدام سے بحری ٹریفک پہلے ہی کم ہو چکی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں ایران کے پاس یہی ایک بڑا راستہ ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں تیل کی سپلائی متاثر رہے گی اور دنیا کو متبادل ذرائع تلاش کرنا ہوں گے۔تنازع کے آغاز سے ہی ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے، جو کہ عام حالات میں دنیا کی 20 فیصد تیل کی سپلائی کا راستہ ہے۔اب تہران نے اس گزرگاہ سے گزرنے کو شرائط سے مشروط کر دیا ہے، جس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ وہ اسے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔اس حوالے سے متحدہ عرب امارات کے وزیر صنعت اور ادنوک کے سربراہ سلطان الجابر نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی شرط کے مکمل طور پر کھولا جائے، کیونکہ ان پابندیوں سے عالمی مارکیٹ میں بحران پیدا ہو رہا ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ 50 دن کی ناکہ بندی کی وجہ سے اب تک تقریبا 60 کروڑ بیرل تیل کی ترسیل میں رکاوٹ آ چکی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پابندیاں ختم بھی کر دی جائیں،۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی