وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہحکومت مذاکرات کیلئے سنجیدہ ہے ،8 فروری کو دیکھ لیں گے یہ کون سے پہاڑ توڑیں گے تب تک انتظار کر لیتے ہیں،حکومت نہیں چاہتی کہ سیاسی ماحول مزید خراب ہو، بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک ہے، دن میں تین بار چیک اپ ہوتا ہے۔ایک انٹرویو میں بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عمران خان کے چیک اپ کیلئے 6 سینئر ڈاکٹرز میڈیکل ٹیم میں شامل ہیں، بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی جو تکلیف تھی اس کا علاج اڈیالہ کے اسپتال میں ہی کیا گیا، ڈاکٹرز کے مشورے پر ہی انہیں چھوٹے ٹریٹمنٹ کیلئے پمز لایا گیا تھا۔بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ عدالتی حکم پر 2024 میں ذاتی معالج کی بھی ملاقات کروائی جاتی رہی ہے، ابھی انہوں نے دوبارہ ذاتی معالج سے متعلق کوئی درخواست دی ہے، عدالت نے حکم دیا تو ذاتی معالج کو عمران خان تک رسائی دی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر ذاتی معالج کو بلایا تھا، پی ٹی آئی نے عدالت سے رجوع کر لیا تو فیصلہ آنے پر ملاقات کی اجازت مل جائے گی
مختلف اسپتالوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ہر ہفتے اڈیالہ جیل میں عمران خان کا معائنہ کرتے ہیں، فیصل چوہدری بانی پی ٹی آئی کی وکلا ٹیم کا حصہ رہے ہیں انہیں معلوم ہے کہ اڈیالہ جیل میں علاج ہوتا ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے حوالے سے بہت سنجیدہ ہے مگر ہم صورتحال دیکھ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو مینڈیٹ دیا گیا لیکن وہ بھی خاموش ہیں، 8 فروری کو دیکھ لیں گے یہ کون سے پہاڑ توڑیں گے تب تک مذاکرات کیلئے انتظار کر لیتے ہیں، حکومت نہیں چاہتی کہ سیاسی ماحول مزید خراب ہو۔پی ٹی آئی کے 8 فروری کو احتجاج کے حوالے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی جتنے احتجاج کیے وہ بے سود تھے، کیمرے کی آنکھ نے سب دکھا دیا کتنے لوگ آئے کتنے نہیں آئے، ان کے احتجاج میں کتنے لوگ آئے یہ گننے کی حکومت کو کوئی ضرورت نہیں۔بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے پاس اسٹریٹ پاور نہیں ہے اگر حکومت مذاکرات کا کہہ رہی تو ان کو کرنا ہوگا، ان کو خدشہ ہے کہ حکومت کے پاس مینڈیٹ نہیں لیکن حکومت تو یقین دلا رہی ہے کہ ہمارے پاس مینڈیٹ ہے آپ آ کر بیٹھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی