i پاکستان

اسلام آباد، امام بارگاہ میں خودکش دھماکے کے شہدا کی نماز جنازہ ادا،امام بارگاہ جامعہ الصادق کے خطیب شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ پڑھائیتازترین

February 07, 2026

اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعہ کے بعد فضا سوگوار ہے، خودکش دھماکے شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، لوگوں کی کثیر تعداد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔ نماز جنازہ جامعہ الصادق جی نائن میں ادا کی گئی۔امام بارگاہ جامعہ الصادق کے خطیب شیخ محمد شفا نجفی نے نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات، سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے۔ جی نائن جامعہ الصادق میں چار شہدا کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔کل 43 شہدا کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی نے بھی نماز جنازہ میں شرکت کی۔ امامیہ سکاوٹس نے شہدا کو سلامی پیش کی۔دوسری جانب ترلائی میں واقع خدیجہ الکبری مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے کیس کے حوالے سے اہم شواہد سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شواہد جمع کر لئے جس میں نیشنل فرانزک ایجنسی اور نادرا کی مدد بھی لی گئی ہے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق خود کش بمبار نے مسجد میں گھسنے سے پہلے فائرنگ کی اور پھر مرکزی ہال میں جا کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ حملہ آور نے4 سے 6 کلو بارودی مواد استعمال کیا، جب کہ بال بیرنگ کی تعداد بہت زیادہ تھی، حملہ آور نے راستے میں 2 جبکہ اندر داخل ہو کر 6 گولیاں چلائیں جن کے خول بھی جائے وقوعہ سے مل گئے ہیں۔قبل ازیں تفتیشی ذرائع نے بتایا تھا کہ خود کش حملہ آور کی شناخت یاسر خان کے نام سے ہوئی جو پشاور کا رہائشی ہے اور اس کی پانچ ماہ کی افغانستان و پاکستان کے درمیان سفر کرنے کی تفصیلات بھی ملی ہیں ۔پشاور سے خودکش بمبار کے چار رشتے داروں کو بھی گرفتار کرلیا گیا، حملہ آور کے شناختی کارڈ پر درج پتے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھاپہ مار کر قریبی رشتے داروں کو حراست میں لے لیا ۔دوسری جانب اسلام آباد خودکش حملے پر ملک بھر کی وکلا برادری بھی سوگ منارہی ہے ۔

عدالتوں میں ہڑتال کی گئی ۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع مسجد میں خود کش حملے کے بعد اسلام آباد، سندھ اور لاہور بار کی جانب سے سوگ منایا گیا ۔اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ہفتہ کو سوگ اور ہڑتال کا اعلان کیا گیا جبکہ سندھ بار کونسل نے بھی اسلام آباد دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے یوم سیاہ منا یا ۔ادھر لاہور بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالتی بائیکاٹ کیا ۔ خودکش حملے کے پیش نظر لاہور بار کے وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہو ئے ۔عدالتی امور ٹھپ ہوکررہ گئے ۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی اسلام آباد میں امام بارگاہ میں خودکش حملے کی شدید مذمت کی۔جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ سفاکانہ اقدام انسانیت، امن اور مذہبی ہم آہنگی پر حملہ ہے، دہشتگردی کی مہذب اور معاشرے میں کوئی جگہ نہیں ہے جبکہ مذہبی عبادت گاہ پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے۔بارایسوسی ایشن نے وزیر اعظم، وزیر اعلی پنجاب اور سیکیورٹی ادارے سے شفاف تحقیقات، ذمہ داران کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور ملک میں تمام مذہبی مقامات کی فول پروف سیکیورٹی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی