لائن آف کنٹرول (ایل او سی )کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں نے26جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ کے طور منایا ،اس موقع پر احتجاجی مظاہرے اور ریلیاںنکالی گئیں اورعالمی دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم و انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا گیا وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے،کشمیریوں کے حق میں پاس کردہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروایا جائے اور بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں،اس موقع پر مقبوضہ وادی کو فوجی چھا ئونی میں تبدیل کردیا گیا، سیکیورٹی کے نام پر سخت لاک ڈئون نافذ رہا،نظام زندگی مفلوج ہوکررہ گیا ۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یوم سیاہ منانے کا مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ بھارت کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے سے انکاری ہے، بھارت جمہوری نہیں بلکہ جارح ملک ہے جس نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر 78 برسوں غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ مظفر آباد سمیت آزاد کشمیر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اورپاکستان میں بھی مختلف شہروں میں بھارت مخالف احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، کل جماعتی حریت کانفرنس، پاسبان حریت سمیت مختلف تنظیموں کے زیراہتمام ریلیاں نکالی گئیں۔
شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پرکشمیر ی عوام سے اظہار یکجہتی اور آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے درج تھے ۔اس موقع پرمقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی یومِ جمہوریہ کشمیریوں کیلئے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے کیونکہ کشمیریوں پر بھارت کی بربریت اور شب خون کی داستانیں تاریخ کا ایک سیاہ حصہ ہیں جو اب تک جاری ہے۔بھارت یومیہ جمہوریہ منا کر کشمیریوں کے سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سلب کیے جانے کے اپنے ناپاک اقدام کو دنیا کی نظروں سے نہیں چھپا سکتا۔ آج کا دن عالمی برادری سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔یہ نقط نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ دن خوشی کے بجائے احتجاج اور سوگ کی علامت ہے، کیونکہ وہ اسے کشمیر میں جاری سیاسی، آئینی اور انسانی حقوق سے جڑے مسائل سے جوڑتے ہیں۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیریوں کے حقِ آزادی کو سنجیدگی سے لے۔ یہ نقط نظر کشمیریوں کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتا ہے۔اس موقع پر حریت رہنما عبدالحمید لون کا کہنا تھا کہ بھارت کے یوم جمہوریہ کو آج لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ کے طور پر منا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 26 جنوری کو یوم سیاہ منایا کشمیری عوام کے حق آزادی ، خودارادیت ، اور انسانی حقوق کی جدوجھد کا اظہار ہے۔ یوم سیاہ منانے کا بنیادی مقصد عالمی برادری کو پیغام دینا ہے کہ کشمیری اپنے مادر وطن پر بھارت کے جبری قبضے کو مسترد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والے ہزاروں بیگناہ کشمیری آج بھی مختلف بھارتی جیلوں میں قید ہیں۔ بین الاقوامی برادری بھارت کی ریاستی دہشت گردی کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ دوسری جانب بھارت نے اپنے یوم جمہوریہ کے موقع پر مقبوضہ وادی کو فوجی چھائونی میں بدل دیا اور سیکیورٹی کے نام پر سخت لاک ڈائون نافذ کیا گیا ہے، بڑی تعداد میں قابض بھارتی فورسز تعینات رہیں اور لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا ۔ مقبوضہ وادی میں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے جبکہ سڑکوں کو خاردار تاروں اور رکاوٹوں سے بند کردیا گیا ، قابض فورسز کی نگرانی کی کارروائیوں سے کشمیری عوام کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو کررہ گئے ۔
ادھر بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی و کشمیری کمیونٹی نے یوم سیاہ کے موقع پر جلسے ،جلوس ،ریلیاں اور مظاہر ے منعقد کئے اور بھارتی سفارتخانوں کے سامنے جمع ہوکر احتجاج بلند کیا گیا ۔آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی اور عالمی برداری کوکشمیر کے تشخص کی یاد دہانی کرائی گئی ۔خیال رہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے بھارت نے 5 لاکھ کشمیری شہید کیے ہیں، آزادی مانگنے پر حالیہ 36 برسوں میں 96 ہزار 481 کشمیری شہید کئے گے، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم تین دہائیوں میں 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں۔بھارت کی قابض افواج نے ایک لاکھ 80 ہزار سے زائد کشمیری تین دہائیوں کے دوران حراست میں لئے ، گزشتہ تین دہائیوں میں کھربوں روپے سے زائد مالیت کی نجی املاک بھی تباہ کردی گئیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی