وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی رانا ثنا اللہ عندیہ دیا ہے کہ28ویں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہوگیا تووفاقی بجٹ سے پہلے آ سکتی ہے، وزیر اعظم شہباز شریف کے ذہن میں یہ واضح ہے جو بھی آئینی ترمیم ہوگی اتفاق رائے سے ہوگی۔ایک انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے کہا کہ فیڈریشن اور صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بنیادی ایشو این ایف سی کا ہے اس مسئلے کو حل کیا جانا ہے، بلدیاتی قانون سے متعلق زیر زبر کا معاملہ ہے اس پر اتفاق رائے ہوا تو بڑی بات ہوگی، تعلیم اور صحت کے ایشوز ہیں ان میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے، 18ویں آئینی ترمیم کے بعد عملی طور پر کچھ چیزیں سامنے آئی ہیں جس پر بیٹھ کر بات ہو رہی ہے۔وزیر اعظم اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات کے بارے میں رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ ملاقات کی خواہش دونوں طرف تھی شہباز شریف نے سہیل آفریدی کا استقبال کیا، وزیر اعظم کی دعوت موجود تھی لیکن وزیر اعلی کے پی نے فیصلہ کیا اب ملیں گے تو وہ تشریف لے آئے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ پہلی ملاقات بڑے خوشگوار ماحول میں ہوئی جس کے 2 بنیادی ایجنڈے تھے
ایک دہشتگردی کا خاتمہ اور امن وامان سے متعلق تھے جبکہ دوسرا ایجنڈا کے پی کے فنڈز میں کمی بیشی کا معاملہ تھا، وزیر اعظم نے ملاقات میں سول لا اینڈ فورسز کی کمی پر بات کی تو سہیل آفریدی نے بتایا کہ ہم سی ٹی ڈی کو منظم کر رہے ہیں اور پولیس کی استعداد بھی بڑھا رہے ہیں۔وزیر اعظم کے مشیر نے کہا وادی تیراہ سے انخلا کرنے والوں کیلئے جو فنڈز رکھے ہیں وزیر اعلی کے پی نے اس کا بھی ذکر کیا کہ یہ فنڈز تھوڑے ہیں وفاق بھی اس میں حصہ ڈالے، دہشتگردوں اور دہشتگردی کیخلاف ہیں ہم پوری طرح سے اپنی سکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور کے پی کے درمیان دو چیزوں پر مکمل اتفاق ہے، اچھی ملاقات کو مثبت انداز سے جاری رکھنا ہوتا ہے اعلامیہ پر بھی بات ہو جاتی ہے، سہیل آفریدی نے جو باتیں کیں وزیر اعظم ہائوس نے بھی وہی اعلامیہ دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی نے مثبت بات کی اور کہا کہ دہشتگرد ہمارے بہن بھائیوں کے قاتل ہیں، اکثر میں شہیدوں کے جنازوں میں بھی گیا ہوں، دہشتگردوں کیلئے کوئی ہمدردی نہیں ہے، ہم دہشتگردوں کے خلاف اپنی فورسز کے ساتھ ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی