i پاکستان

بسنت فیسٹیول کا آغاز ،ایس او پیز پر عمل کریں اوراس بسنت کو سب کیلئے محفوظ بنائیں، مریم نوازتازترین

February 06, 2026

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ بسنت پنجاب کا ثقافتی ورثہ ہے اور ہمیں اپنی ثقافت پر ناز ہے، زندہ دلانِ لاہور ذمہ داری کے ساتھ خوشیاں منائیں، ذمہ داری شہری ہونے کا ثبوت دیں، حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد کریں۔ مریم نواز شریف نے بسنت کے آغاز کے موقع پر اعلامیہ جاری کیا ہے کہ بسنت کی خوشیاں منائیں،ہم آپ کے ساتھ ہیں، پریشانیاں بھلا کر نیلے افق کی طرف بڑھتی ہوئی گڈی پر توجہ مرکوز کریں، خوشی کے ہر لمحے میں اپنے ارد گردکے لوگوں کو بھی شریک کریں۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ بائیک کی بجائے ہر روٹ پر مفت ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں، عوام کے مفت امدورفت کے لئے 419 بس تینوں دن میسر ہوں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ بسنت کے موقع پر عوام کو 60ہزار سے زائد فری رائیڈز دیں گے، اورنج لائن ٹرین کے 25 سیٹ مسافروں کو مفت سفر کی سہولت مہیا کریں گے، میٹروبس، فیڈر بسیں، گرین بسیں بھی فری ٹریول کی سہولت مہیا کریں گی، 6ہزار Yango رکشوں پر رائیڈ فری ہوگی۔مریم نواز شریف نے شہریوں کو ہدایت کی کہ حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد یقینی بنائیں، مقررہ سائز اور سٹینڈرڈ کے مطابق پتنگیں اور ڈور استعمال کریں، یاد رکھیں ممنوعہ ڈور کے استعمال پر بھاری جرمانے اور طویل قید کی سزا ہوسکتی ہے، پتنگ بازی کے لئے دھاتی تار، تندی، بلٹ بروف مٹیریل اور چرخی کا استعمال غیر قانونی ہے۔

وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ لاہور کے سول ایوی ایشن ایریاز میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں دی جائے گی، بائیک اور موٹرسائیکل رکشے پر سیفٹی راڈ ناگزیر ہیں، رجسٹرڈ مینوفیکچرز،سیلرز اوردکاندار سے کیو آر کوڈ لگی ڈور اور پتنگیں خریدیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ دکاندار بھائیوں سے اپیل کرتی ہوں کہ عوام بالخصوص بچوں کی خوشیوں کی راہ میں حائل نہ ہوں، ڈور اور پتنگیں مہنگی نہ بیچیں۔انہوں نے واضح کیا کہ بسنت کے موقع پر عوام کی حفاظت کیلئے ہر ممکن اقدام کیا گیا، تحفظ کیلئے ہر تحصیل میں 15محکموں پر مشتمل کوئیک رسپانس یونٹس بھی قائم کی، کھلی چھت پر پتنگ بازی کرتے ہوئے احتیاط کریں، منڈیر نہ ہونے پر چھت کے اطراف میں کم ازکم نائیلون کی ڈورضرور باندھ لیں۔وزیراعلی پنجاب نے کہا ہے کہ کھلی چھت پر حفاظتی اقدامات کی عدم موجودگی میں پتنگ بازی کی اجازت نہیں ہوگی، بسنت کے موقع پر تھرمل ڈرون کے ذریعے سرویلنس جاری رہے گی، پولیس، ٹریفک وارڈن، انتظامیہ اور دیگر ادارے آپ کی مدد کے لئے موجود ہیں، بھرپور تعاون کیجئے۔دریں اثنا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے شہریوں کی بسنت منانے کی ویڈیو شیئر کی۔

انہوں نے لکھا کہ25 سال بعد بسنت بحال ہونے پرلاہورکے آسمان پرپتنگیں لوٹ آئی ہیں ۔ ہم سب بسنت پر خوشیوں کا جشن ذمہ داری کے ساتھ منائیں۔مریم نواز نے کہا کہ تمام حفاظتی ایس او پیز پر عمل کریں اوراس بسنت کو سب کے لیے محفوظ بنائیں۔ وزیراعلی کاکہنا تھا کہ پنجاب اورپاکستان میں خوشی اور سکون واپس لانے پر محمد نوازشریف آپ کا شکریہ۔ ادھر پنجاب بھر میں خواتین ، بچے ، بزرگ ، سب بسنت لطف اندوز ہور ہے ہیں،کئی برسوں کے بعد لاہور میں ایک بار پھر گلی گلی کوچہ کوچہ میں بسنت بہار آ گئی۔لاہور کی سڑکیں اور گلیاں اس وقت پتنگوں سے سجی ہوئی ہیں، پتنگ اور ڈور مہنگی ہونے کے باوجود شہر بھر میں نایاب ہو چکی ہے۔طویل عرصے بعد بسنت منانے والی وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کوئی کسی کو تنگ نہیں کررہا، سب اپنی مستی میں ہیں۔عظمی بخاری نے کہا دعا ہے یہ خوشیاں تین دن تک برقراررہیں اورکسی کی نظرنہ لگے۔واضح رہے کہ پنجاب بھر میں آ بسنت کے باعث عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ۔دوسری جانب لاہور میں بسنت کے موقع پر مختلف واقعات میں ایک شخص جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق باغبانپورہ میں سکھ نہر کے قریب 25 سالہ علی رشید کٹی پتنگ اتارنے کیلئے بجلی کے کھمبے پر چڑھا، اس دوران کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا۔ ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈورگردن پر پھرنے سے نوجوان رافع زخمی ہوگیا، اسی طرح گلشن راوی میں بھی پتنگ کی ڈور پھرنے سے 8 سالہ ارسا اور45سالہ شبیر زخمی ہوگئے۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ لوئر مال کے علاقے میں پتنگ لوٹتے ہوئے 12 سالہ عبد الواحد زخمی ہوا جبکہ گلشن راوی میں 14 سالہ سلمان درخت سے پتنگ اتار رہا تھا کہ اس دوران زخمی ہوگیا۔دریں اثنا پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 نے بسنت فیسٹیول کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 6 سے 8 فروری تک خصوصی ایمرجنسی پلان مرتب کر لیا۔ریسکیو 1122 لاہور کے مطابق شہر بھر میں 1200 سے زائد ریسکیور، 56 ایمبولینسز، 24 فائر وہیکل اور 300 ریسکیو موٹر بائیکس مختلف اہم مقامات پر تعینات کی جائیں گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری رسپانس یقینی بنایا جا سکے۔

حکام کے مطابق لاہور میں قائم 23 ریسکیو سٹیشنز کے ساتھ ساتھ شہر کے مختلف علاقوں میں 180 خصوصی کی پوائنٹس بنائے گئے ہیں، جہاں ایمرجنسی ایمبولینسز، فائر وہیکلز اور ریسکیو موٹر بائیکس ہمہ وقت موجود رہیں گی، تنگ گلیوں اور ٹریفک کے رش میں بروقت رسائی کے لیے ریسکیو موٹر بائیکس کو خصوصی کی پوائنٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔ریسکیو 1122 کے مطابق والڈ سٹی، مزنگ، اچھرہ، شاد باغ اور داتا دربار کے علاقوں میں بھی خصوصی ریسکیو ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں جبکہ کسی بڑی ایمرجنسی کی صورت میں قریبی اضلاع سے فوری بیک اپ ریسکیو ٹیمیں بھی دستیاب ہوں گی۔ترجمان ریسکیو 1122 کا کہنا ہے کہ بسنت فیسٹیول کے دوران ریسکیو و میڈیکل کور کے خصوصی انتظامات کے ساتھ ساتھ روٹین ریسکیو آپریشنز بھی معمول کے مطابق جاری رہیں گے، اس دوران صوبائی ایمرجنسی آپریشن سنٹر اور ضلعی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر لاہور تمام ریسکیو سرگرمیوں کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی