سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی کے دوران فائرٹینڈرز کے پاس سامان تک نہیں تھا۔ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ میں اتوار کے روز وہاں پہنچا تھا اور 18 گھنٹے بعد بھی آگ بجھانے کا عمل سست رفتاری سے جاری تھا۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ایم اے جناح کو گزشتہ 5 سال سے گرین لائن کیلئے کھودا ہوا ہے اور اب تک اس کا کچھ نہیں کیا گیا، معلوم نہیں اس اہم شاہراہ کو دوبارہ کب ٹھیک کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ فائر ٹینڈرز کو آنے اور جانے میں دیر لگی ہوگی، گل پلازہ کے لوگوں نے بتایا کہ فائرٹینڈرز دو گھنٹے بعد آئے، جس وقت آگ لگی اس کے بعد ہی دیر میں وہاں لائٹ بند ہوچکی تھی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ فائرٹینڈرز کے پاس سامان نہیں تھا کہ وہ دیوار توڑ سکیں یا گرل کاٹ سکیں، فائر فائٹرز کو سلام ہے جو وسائل کے بغیر لوگوں کی جانیں بچانے کیلئے پہنچے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں کہیں گرل تو کہیں بلاکس لگے تھے کیونکہ دکانداروں کو چوری کا ڈر ہوتا تھا، فائر ٹینڈرز دو گھنٹے بعد آئے تو پانی مارتے رہے لیکن فوم صبح کے وقت آیا۔انہوں نے بتایا کہ رات ساڑھے 10بجے آگ وہاں لگی جہاں پلاسٹک و دیگر آگ پھیلانے والی کیمیکل والی اشیا رکھی تھیں، ہائیڈرنٹس میں اتنا پریشر نہیں تھا کہ پانی عمارت کے زیادہ اندر تک جاسکے، فائر ٹینڈرز میں پانی ختم ہوجاتا تھا تو آگ دوبارہ سے بڑھ جاتی تھی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی