کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے کئے گئے حملوں کو سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا، کوئٹہ میں سریاب روڈ پر موبائل پولیس پر فائرنگ میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 3 اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے جبکہ سکیورٹی فورسز نے 9خوارج کو جہنم واصل کردیا ،ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ،موبائل انٹرنیٹ سروس بند اور ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی ۔ پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ شہر کے علاوہ پسنی، نوشکی اور خاران میں ہفتہ کی صبح چھ بجے کے قریب سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی د ی گئیں اور زوردار دھماکہ سنا گیا ۔پولیس حکام کے مطابق کوئٹہ کے علاقے سریاب روڈ پر پولیس کی گاڑی پر فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کی جانب سے حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ لگ گئی اور دو اہلکار شہید ہوگئے۔ فائر سروسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا، ڈائریکٹر فائر سروسز عبدالحق اچکزئی کے مطابق فائر بریگیڈ کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔
واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے جبکہ حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ میں زرغون روڈ پر وزیراعلی ہائو س جانے والے راستے ریڈ زون کے قریب دھماکہ ہوا جس میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے پولیس ذرائع کے مطابق تھانہ خالق شہید اور نیو سریاب تھانوں کو حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔کوئٹہ کے بولان میڈیکل ہسپتال میں چھ زخمیوں کو لایا گیا جو راکٹ حملے اور فائرنگ سے زخمی ہوئے ۔نیو سریاب تھانے اور پولیس ٹریننگ کالج کے اطراف میں بھی شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔وزیر صحت بلوچستان بخت محمد کاکڑ اور سیکریٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمان نے موجودہ حالات کے پیش نظر کوٹہ کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔ادھر گوادر کے علاقے پسنی میں فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے سکیورٹی فورسز کے کیمپ پر بارود سے بھری گاڑی ٹکرائی اور اندر داخل ہونے کی کوشش کی۔ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ جوابی کارروائی میں کم از کم پانچ حملہ آور مارے گئے۔
گوادر میں لیبر کالونی میں نامعلوم مسلح افراد داخل ہوگئے جس کے بعد پولیس، سکیورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق قلات میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیس تھانہ سٹی اور صدر تھانہ کے ریکارڈ کو نذرِ آتش کر دیا۔پولیس تھانے کے قریب ایک لانچر پھٹنے سے دو اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں ڈی ایچ کیو منتقل کیا جا رہا ہے۔مستونگ، نوشکی، خاران، چاغی کے علاقے دالبندی، قلات، گوادر کے علاقے پسنی، ضلع کیچ کے مختلف علاقوں تربت، تمپ، مند میں دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔مستونگ کے نواب غوث بخش ہسپتال میں تین زخمی لائے گئے ہیں جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ان حملوں کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بی ایل اے سے منسلک غیر ملکی حمایت یافتہ دہشتگرد نیٹ ورک کی جانب سے کیے گئے حملے سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دئیے۔ ترجمان سی ٹی ڈی کیمطابق سریاب کے علاقے میں سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاع پرکارروائی کی،فائرنگ کے تبادلے میں کالعدم تنظیم کے چار دہشت گرد مارے گئے۔دہشت گردوں کے زیرانتظام کمپاونڈ سے اسلحہ ،دستی بم اورکالعدم تنظیم کا لیٹریچربرآمدکرلیاگیا،علاقے کو گھیرے میں لے کمپاونڈ کو کلیئر کیا جارہا ہے۔
نوشکی میں دہشتگردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹر پر فائر ریڈ کیا، تاہم مستعد اہلکاروں کی بھرپور جوابی کارروائی کے باعث حملہ آور فرار ہو گئے اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔دالبندین میں ایف سی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنانے کی کوشش کے دوران دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا، صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں رہی۔قلات میں دہشتگردوں نے ڈپٹی کمشنر آفس اور پولیس لائنز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ سکیورٹی فورسز نے موثر کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا اور دہشتگردوں کو پسپا کر دیا۔پسنی میں پاکستان کوسٹ گارڈز کی تنصیب پر دور سے فائرنگ کی کوشش کی گئی جبکہ گوادر میں مزدوروں کی کالونی کو نشانہ بنانے کی سازش ناکام بنا دی گئی۔ پولیس اور ایف سی نے دونوں مقامات پر بروقت کارروائی کی۔اسی طرح بلیچہ، تمپ، مستونگ اور خاران میں سکیورٹی پوسٹوں پر گرنیڈ اور فائر ریڈ کی کوششیں بھی ناکام بنا دی گئیں۔
حالیہ حملے سکیورٹی فورسز کی جانب سے گزشتہ دنوں میں بلوچستان بھرمیں 50 سے زائد دہشتگردوں کے خاتمے کے بعد کئے گئے، جو دہشتگرد نیٹ ورکس کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز بلوچستان میں عوام کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لئے پرعزم ہیں اورغیرملکی حمایت یافتہ نیٹ ورکس کیخلاف کارروائیاں جاری رہیں گی،پاکستان دہشتگردی کے خلاف متحد ہے۔ادھر وزیرِ اعلی بلوچستان کے مشیر شاہد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملوں کی کوشش کی ہے جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ناکام بنا دیا ہے جبکہ دوسری جانب کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے۔شاہد رند کے ایکس اکاونٹ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو روز میں بلوچستان میں مختلف مقامات پر 70 سے زائد دہشت گردوں کے مارے جانے کے بعد بلوچستان میں چند مقامات پر دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی ہے جس کو پولیس اور ایف سی نے بروقت کارروائی کر کے ناکام بنا دیا ہے۔شاہد رند کا مزید کہنا ہے کہ اس وقت بھاگنے والے شدت پسندوں کا تعاقب جاری ہے اور مزید تفصیلات بہت جلد سامنے لائی جائیں گی۔
میڈیارپورٹس کے مطابق کوئٹہ شہر میں دھماکوں اور فائرنگ کے بعد ریڈ زون کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ سول سیکریٹیریٹ اور عدالتوں سمیت سرکاری دفاتر میں سرگرمیاں روک دی گئی ہیں۔ ادھر ضلع کیچ کے علاقے تمپ میں نامعلوم مسلح افراد نے سابق تحصیلدار عابد یار محمد کو گھر کے اندر فائرنگ کرکے قتل کر دیا ۔ڈی ایس پی تمپ عبدالستار کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے سابق تحصیلدار کو اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت کرنے پر مسلح افراد نے عابد یار محمد گولیاں مار کر قتل کر دیا۔دوسری جانب کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی ہے۔ کوئٹہ سے اندرون ملک اور اندرون صوبہ چلانے والی تمام ٹرینیں معطل کردی گئی ہیں۔ریلوے ذرائع کے مطابق کوئٹہ سے پنجاب جانے والی جعفرایکسپریس، کراچی جانے والی بولان میل سروس اور کوئٹہ سے چمن جانے والی چمن پسنجر ٹرین معطل کردی گئی ہے۔انہو ں نے مزید بتایا کہ پشاور سے آنے والی جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد پر روک لیا گیا تھا تاہم متاثرہ مسافروں کا ٹکٹ واپس کیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی