i پاکستان

کراچی، گل پلازہ میں لگی تباہ کن آگ 33 گھنٹے بعد بجھادی گئی،کولنگ کا عمل جاری ، جاں بحق افراد کی تعداد14ہوگئی، 60کے قریب افراد لاپتہتازترین

January 19, 2026

کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی تباہ آگ 33 گھنٹے بعد مکمل طورپربجھادی گئی، سرچ آپریشن کے دوران مزید 8 افراد کی لاشیں نکال لی گئیں ،جاں بحق افراد کی تعداد 14ہوگئی جبکہ 22 افراد زخمی ہوئے۔ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ ہفتے کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگی، گرائونڈ فلور پر لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پہنچی، خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے گر گئے۔فائر فائٹرز نے 33 گھنٹے بعد آگ پر مکمل طور پر قابو پالیا جس کے بعد اب کولنگ کا عمل جاری ہے۔ حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے بعد فائر فائٹرز پلازہ کے اندر داخل ہوئے ۔ جلی ہوئی دکانوں میں محدود پیمانے کا سرچ آپریشن کیا گیا ، اس دوران ایک بچے سمیت 3 افراد کے اعضا ملے جنہیں سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کردیاگیا۔لوگ بے بسی کی تصویر بنے ہفتے کی رات سوا 10 بجے سے جلتی ہوئی عمارت کے باہر کھڑے اپنے پیاروں کی راہ تک رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اہل خانہ سے لاپتہ افرادکیموبائل نمبر حاصل کرلیے ہیں ، 20 سے زائد افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی آئی ہے۔

پلازہ کی تیسری منزل پر پھنسے شخص کی موجودگی کے امکان پر ریسکیو آپریشن کیا گیا مگر کوئی نہ مل سکا۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق کٹرکی مدد سے کھڑکیوں کو کاٹا جارہاہے، ہتھوڑوں کی مدد سے دیوار کو بھی گرایا جارہا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق آگ کی وجہ سے عمارت کے پلرز کم زور ہوگئے ہیں، متعدد دراڑیں پڑ گئی ہیں، عمارت انتہائی پرانی ہونے کے باعث گرنے کا خدشہ ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں کاشف ولد یونس عمر40 سال ، فراز ولد ابرار 55 سال ، محمد عامر ولد نامعلوم 30 سال ، فرقان ولد شوکت علی 25 سال سمیت 5 دیگر افراد شامل ہیں جن کی لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔زخمی اور متاثرہ افراد میں حسیب ولد وسیم عمر 25سال ، وسیم ولد سلیم 20 سال ، دانیال ولد سراج 20 سال ، صادق ولد نامعلوم 35 سال، حمزہ ولد محمد علی 22 سال ، رحیم ولد گل محمد 25 سال ، فہد ولد محمد ایوب 20 سال ، جواد ولد جاوید 18 سال ، ایان ولد نامعلوم 25 سال ، عبداللہ ولد ظہیر 20 سال ، عثمان ولد اصغر علی 20 سال ، فہد ولد حنیف 47 سال ، زین ولد عبداللہ 23 سال ، نادر ولد نامعلوم 50 سال اور دیگر شامل ہیں۔تاحال 60کے قریب افراد لاپتہ ہیں۔

ادھر میئرکراچی مرتضی وہاب نے گل پلازہ کا دوبارہ دورہ کیا جہاں انہوں نے جلنے والی عمارت کا جائزہ لیا۔ میئر کراچی نے اس دوران امدادی کاموں کو تیز کرنے کی ہدایت کردی۔ میڈیا سے گفتگو میں مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ 65کے قریب لوگ لاپتا ہیں، رش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات ہیں، عمارت کے پیچھے سے بھی آپریشن کیا جا رہا ہے۔آگ پر مکمل کنٹرول اور کولنگ کا عمل کب مکمل ہوگا، وقت نہیں دے سکتا۔مرتضی وہاب کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کی آمد پر احتجاج کیا اور نعرے لگائے، عوام کی تکلیف کو سمجھتے ہیں۔اس دوران صدرالیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن رضوان عرفان نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دکاندار اور ان کے ورکر تاحال عمارت میں ہیں۔صدر الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کی اپیل پر پیر کو یوم سوگ منایا گیا ، مارکیٹیں بند رہیں اور دکانداروں سے اظہار یکجہتی کیا گیا ۔ ادھر گل پلازہ میں لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہوئے جان کی بازی ہارنے والے فائر فائٹر شہید فرقان علی کی نمازِ جنازہ ادا کردی گئی۔

فرقان ایک بچے کا باپ تھا جو گل پلازہ میں لگی آگ بجھاتے ہوئے انتقال کرگیا۔ فرقان علی کے اہل خانہ نے اپیل کی ہے کہ ان سے سرکاری گھر نہ لیا جائے اور فرقان کی اہلیہ کو ملازمت دی جائے۔دریں اثنا رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں ہنگامی اخراج کی جگہ نہیں تھی، عمارت میں آگ سے نمٹنے کے لیے انتظامات بھی نہیں تھے جبکہ تنگ داخلی وخارجی راستوں کے باعث فائر فائٹنگ میں تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 1995 میں تعمیر ہونے والی عمارت ابتدائی طور پر بیسمنٹ،گرائونڈ اور پہلی منزل تک تھی۔رپورٹ کے مطابق 2003 تک مختلف اوقات میں 3 فلورز تعمیرکیے گئے، عمارت میں 500 دکانوں کی گنجائش تھی لیکن دکانوں کی تعداد 500 سے بڑھ کر 1200 ہوگئی تھی۔ ادھر سانحہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کی موثر نگرانی کیلئے ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کمشنر کراچی کے احکامات پر 30 افسران پرمشتمل چھ ٹیمیں تشکیل دے دیں۔ڈپٹی کمشنر جنوبی کے مطابق ہر ٹیم میں ایک سربراہ کیساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہوں گے، جبکہ یہ ٹیمیں امدادی کارروائیوں کی نگرانی کریں گی، تمام ٹیمیں تین شفٹوں میں کام کریں گی تاکہ ریسکیو آپریشن بلا تعطل جاری رکھا جا سکے۔

پہلی ٹیم ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ امیرفضل اویس کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے، جو رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک کمانڈنگ افسر کے فرائض انجام دیں گے۔ ان کے ساتھ دو اسسٹنٹ کمشنرز اور دو مختیارکار شامل ہوں گے۔دوسری ٹیم کی قیادت ڈپٹی کمشنر ساتھ جاوید نبی کھوسو کریں گے، جو صبح 6 بجے سے دوپہر 2 بجے تک آپریشن انچارج ہوں گے، تیسری ٹیم اے ڈی سی ون ساتھ اسمی بتول بطول کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے،جو دوپہر 2 بجے سے رات 10 بجے تک کمانڈنگ افسر کے فرائض انجام دیں گی۔چوتھی ٹیم اے ڈی سی ون سینٹرل عاصم عباسی کی قیادت میں کام کرے گی، جو رات 10 بجے سے صبح 8 بجے تک کمانڈنٹ ہوں گے، پانچویں ٹیم اے ڈی سی ون ایسٹ سمیع اللہ سنجرانی کی سربراہی میں صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک اپنی خدمات انجام دے گی۔چھٹی اور آخری ٹیم ایڈی سی ون کیماڑی عبدالستارہکڑو کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے،جو شام 4 بجے سے رات 12 بجے تک کمانڈنگ افسر کے فرائض سرانجام دیں گے، انتظامیہ کے مطابق تمام ٹیمیں گل پلازہ سانحے کے بعد جاری ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں گی تاکہ متاثرین کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ علاوہ ازیں انجمن تاجران سندھ کے صدر جاوید قریشی نے کہا ہیکہ حکومت کی نااہلی ہے وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی۔

ایک انٹرویو میں جاوید قریشی نے کہا کہ گل پلازہ کے واقعے میں مالی اور جانی نقصان تاجروں کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور الزامات بھی ہم پر ہی لگائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ لوگوں کو ریسکیو نہیں کرسکی، 34 گھنٹے میں بھی ریسکیو کا کام مکمل نہیں ہوا، حکومت کو ناکامی کا اعتراف کرنا چاہیے۔صدر انجمن تاجران سندھ کا کہنا تھاکہ دیکھ بھال ( مینٹیننس) کی رقم چوکیداری سسٹم، مینٹیننس اور جنریٹر کے ڈیزل پر خرچ ہوتی ہے، گل پلازہ کے بیسمنٹ میں پارکنگ تھی جس میں دکانیں بنا دی گئیں، وہاں بیسمنٹ سمیت گراونڈ پلس ون کی اجازت تھی جس میں توسیع ہوتی گئی۔جاوید قریشی نے مزید کہا کہ گل پلازہ میں تمام توسیع قانونی طریقے سے کی گئی۔کراچی چیمبر آف کامرس نے سانحہ گل پلازہ پر منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔صدر کراچی چیمبر ریحان حنیف نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے، کیا عمارت میں فائر سیفٹی اقدامات، ایگزیٹس، کیا فائربریگیڈ کے پاس آگ بجھانے کی مطلوبہ استطاعت تھی؟۔ریحان حنیف نے کہا کہ کیا فائرمینز کے پاس مطلوبہ کٹس وسہولیات موجود تھیں؟ جیسے سوالات کے جوابات کمیشن تیار کرسکے گا۔انہوں نے کہا کہ گل پلازہ کے متاثرین کی بحالی کے لیے فوری طور پر ایک فنڈ قائم کیا جائے،فنڈ کے قیام سے گل پلازہ متاثرین کے نقصانات کا ازالہ ممکن ہوسکے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی