کراچی میں سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق مزید 3 افراد کی لاشوں کی شناخت کرلی گئی جس کے بعد سانحے میں شناخت کی جانے والی لاشوں کی تعداد 11 ہو گئی ، جب کہ لاشوں کی شناخت محمد شہروز، محمد رضوان اور مریم کے نام سے ہوئی جن کی میتیں اہل خانہ نے وصول کیں۔اس کے علاوہ دیگر جاں بحق افراد میں کاشف، مصباح، عامر، فراز، فاروق، فرقان، محمد علی، تنویر شامل ہیں۔واضح رہیکہ سانحے میں اب تک 28 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور17 لاشیں ناقابل شناخت ہیں، شناخت کے لیے 50 فیملیز کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے موصول ہوچکے ہیں۔فائرآفیسر کے مطابق تہہ خانے کے اوپن ایریا کو سرچ کرلیا گیا ہے جہاں سے کوئی لاش نہیں ملی، تہہ خانے کا جو حصہ دبا ہوا ہے اسکی تلاش باقی ہے جب کہ عمارت کا دوسرا اور تیسرا فلور بھی کلیئر ہے۔اس کے علاوہ سانحہ گل پلازہ کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی نے کام شروع کردیا ہے۔دوسری جانب میئر کراچی مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی عمارت دو تہائی کلیئر ہوچکی، مزید لاشیں نہیں ملی، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، ابھی حتمی تعداد نہیں بتاسکتا۔
مرتضی وہاب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی عمارت کاجائزہ لے رہی ہے، ابھی تک کتنی لاشوں کی شناخت اورکتنے جاں بحق ہوئے، حتمی طورپرصبح بتاسکوں گا۔میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ عمارت دو تہائی کلیئر ہوچکی، مزید لاشیں نہیں ملی، ہمیں 81 افرادکے لاپتہ ہونے کی شکایات ملیں۔مرتضی وہاب نے کہا کہ گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن 70 فیصد مکمل کرلیاگیا، پہلے اور دوسرے فلور کو کلیئرکر دیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عمارتوں میں فائر سیفٹی سسٹم نصب ہونا چاہیے تاکہ ایسے حادثات نہ ہوں۔ ادھر ڈپٹی کمشنر ساتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ جب تک ایک بھی لاپتا شخص ہے اس وقت تک عمارت کو نہیں گراسکتے اور جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سائوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ گل پلازہ میں پانچویں روز بھی ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ہماری کوشش ہے جلد از جلد لاشوں کی شناخت بھی ممکن ہو۔انہوں نے کہا کہ مرنے والوں کی تعداد 28 ہو چکی ہے جب کہ ملبے سے نکلنے والے 17 افراد کی شناخت ہونا باقی ہے، 11 افراد کی شناخت کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے اور 85 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
ڈی سی سائوتھ کا کہنا تھاکہ 39 لاپتا افراد کی لوکیشن گل پلازہ کی بلڈنگ کی آئی ہے مگر بلڈنگ کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں ہم نہیں پہنچ سکے ہیں، گل پلازہ کے جو حصے گرے ہیں وہاں سے ملبہ ہٹایا جارہا ہے، مشین سے اور مینولی بھی کام کیا جارہا ہے، عمارت کے گرے ہوئے حصے کو اٹھانے میں مشکلات ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمارت کے اندر ابھی بھی دھواں اور گرمائش ہے لہذا اس وقت عمارت میں کولنگ بھی کی جارہی ہے جہاں تک پہنچ سکتے ہیں وہاں سرچ کیا گیا ہے، تکنیکی معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئیریسکیواینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔ڈی سی سائوتھ نے کہا کہ 85 افراد لاپتا افراد کی فہرست میں ہیں جن میں کچھ نام ڈبل ہوگئے ہیں ان کی جانچ کی جارہی ہے، کسی قسم کی جلد بازی نہیں کی جارہی ہے کیونکہ یہ انسانی زندگیوں کا مسئلہ ہے، جب تک ایک بھی لاپتاشخص ہے اس وقت تک عمارت کو نہیں گراسکتے اور جب سب مکمل ہو جائے گا تب پوری عمارت کو گرائیں گے۔جاوید کھوسو کا کہنا تھاکہ برابر میں موجود رمپا پلازہ کو عارضی طور پر بند کیا ہے، ایس بی سی اے سے رمپا پلازہ کے نقشے اور دیگر چیزیں مانگی ہیں۔ ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ بجھانے کیلئے فائر ٹینڈرز کی تعداد ناکافی تھی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ بیسمنٹ میں آگ لگی تو گرائو نڈ فلور کو بھی پتہ چل گیا مگر دوسری، تیسری منزل والوںکو علم ہی نہیں تھا
بلاول بھٹو نے اسی رات کو نوٹس لیا اور وزیراعلی سندھ کو ہدایات دی تھیں۔ڈپٹی میئر کا کہنا تھا کہ کراچی میں اس وقت فائرٹینڈرز ناکافی ہیں مزید منگوائے جائیں گے، 2021میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے فائر ٹینڈرز کی آمد میں تاخیر ہوئی ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ سبزی منڈی میں آگ لگی تو اطلاع ملتے ہی فائربریگیڈ فوری طور پر وہاں پہنچ گئی تھی ،گل پلازہ سانحہ پر ہم سب کو ایک ہونا چاہیے شہریوں کو بھی اداروں کا ساتھ دینا ہوگا۔سلمان مراد کا مزید کہنا تھا کہ کوئی بھی غلطی یا کوتاہی ہوئی تو اس پر ایکشن لیا جائے گا، کسی ادارے یا انتظامیہ کی غلطی ہو تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔ دریں اثنا گل پلازہ میں آگ کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی( ایس بی سی اے) نے متصل رمپا پلازہ کو غیر محفوظ قرار دے دیا۔ایس بی سی اے کا کہناہے کہ رمپا پلازہ انتظامیہ اور دکان مالکان کو نوٹس جاری کر دیا گیا ہے ، گل پلازہ کے ملبے کی وجہ سے رمپا پلازہ کے ستون متاثر ہوئے، رمپا پلازہ کے خطرناک حصے کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہیکہ رمپا پلازہ میں کسی بھی غیر اجازت شدہ سرگرمی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی