لاہور میں شیرنی کے بچے پر حملے کے واقعہ کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 غیر قانونی شیروں کو تحویل میں لے لیا اور ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ برآمد کیے گئے جانوروں میں 5 شیرنیاں، 3 شیر اور 3 شیر کے بچے شامل ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق یہ شیر نواں کوٹ کے علاقے میں ایک فیکٹری میں رکھے گئے تھے۔ فیکٹری کے نیچے ایمبرائیڈری کا کام جاری تھا، جبکہ فرسٹ فلور پر شیر رکھے گئے تھے۔واضح رہے کہ بھیکے وال پنڈ میں پالتو شیرنی کے حملے سے 8 سالہ بچی زخمی ہوئی، جسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ بچی کے کان اور گردن پر زخم آئے تھے۔پولیس کے مطابق دو ملزمان، بلاول اور شجاعت، رکشے سے پالتو شیرنی اتار رہے تھے کہ شیرنی بپھر گئی اور 7 سالہ راہگیر بچی پر حملہ کر دیا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایس پی اقبال ٹان ڈاکٹر محمد عمر سمیت پولیس کی بھاری نفری فوری طور پر موقع پر پہنچی اور صورتحال پر قابو پایا گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی