سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے ہماری معیشت بالکل نہیں چل رہی، حکومتی دعوں میں حقیقت نہیں، ہمیں این ایف سی ایوارڈ بدلنا ہوگا، وفاق کے اخراجات بھی کم کرنا ہوں گے، 4ہزار ارب روپے پی ایس ڈی پی کیلئے رکھے گئے ہیں۔ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز پر 60 فیصد اور تنخواہ دارطبقے پر 40 فیصد ٹیکس ہے، مہنگی بجلی اور گیس دیں گے تو خطے کے ممالک سے کیسے مقابلہ کریں گے؟ ہرایم این اے کو25،25کروڑ روپے دئیے گئے ہیں۔سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو اپنے پیر چادر میں رکھنے چاہئیں، دنیا میں تیل60ڈالر سے نیچے،پہلے کبھی اتنا سستا نہیں ہوا، خام تیل اور خوردتیل بھی سستا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اب سنہری مواقع ملے ہیں تو برآمدات کیوں نہیں بڑھاپا رہے؟ ہماری معیشت بالکل نہیں چل رہی، اسٹیبلشمنٹ حکومت کی جتنی سپورٹ کر سکتی، کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مشکل فیصلے تنخواہوں پر ٹیکس لگانے سے نہیں ہوتے، مشکل فیصلے یہ ہیں کہ ایم این ایز،ایم پی ایز کو پیسے نہ دیں، مشکل فیصلے یہ ہیں کہ کچھ لوگوں کوٹیکس مراعات دیں۔سابق وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ ہم آج بجلی اسی طریقے سے بیچ رہے ہیں جیسے 2012 میں بیچ رہے تھے، پاکستان میں بجلی بنگلادیش اور بھارت سے کم استعمال ہوتی ہے، 200یونٹ تک سبسڈی دی گئی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی