ملک کے بیشتر بالائی اور شمالی علاقوں میں مغربی ہوائو ں کا طاقتور سسٹم داخل ہونے سے ایک بار پھر برفباری کا سلسلہ شروع ہوگیا، رابطہ سڑکیں بند ہیں، ریسکیو آپریشن جاری ہے،سردی کی شدت مزید بڑھ گئی۔بلوچستان کے علاقوں کوئٹہ ، زیارت ، کوژک ٹاپ ، کان مہترزئی ، خانوزئی ، شیلا باغ اور مسلم باغ میں برفباری کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا جس سے رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔ کوژک ٹاپ، شیلاباغ میں پچھلے چونتیس گھنٹوں سے مسلسل برف باری جاری ہے۔پاک افغان سرحدی علاقوں برف باری سے اہم شاہراہیں برف سے ڈھک گئی ہیں۔ قلات میں تین انچ تک برف پڑچکی ہے، لکپاس اور دیگر قومی شاہراہوں سے برف ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال اورنمک پاشی کی جا رہی ہے۔چمن سمیت شمالی بلوچستان میں دوسرے روز بھی برف باری اور بارش کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ میدانی علاقوں میں دوسرے روز بھی وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔توبہ اچکزئی، خواجہ عمران، شیلاباغ میں برفباری نہ رک سکی، قلعہ عبداللہ، گلستان، جنگل پیرعلیزئی، میزئی اڈہ میں بھی بارش جاری ہے، بارش اور برفباری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
ادھر استور میں گزشتہ رات سے پہاڑوں اوربالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ وقفے وقفے کے ساتھ جاری ہے۔ چلاس میں بابوسر ٹاپ،نانگا پربت،بھٹوگاہ ٹاپ،داریل اورتانگیر کے پہاڑوں پر برف باری ہورہی ہے۔غذر کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری اور میدانی علاقوں بارش کے بعد نظام زندگی مفلوج ہوگیا۔ ادھر ملکہ کوہسار مری میں منگل کو دوسرے روز بھی برفباری کا چوتھا سپیل وقفے وقفے سے جاری ہے، اور اب تک 3 انچ تک برفباری ریکارڈ کی جا چکی ہے، مری لوئر بیلٹ میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔دوسری جانب وادی نیلم میں برف باری کے باعث بندشاہراہ نیلم کو چلہانہ سے کیل تک ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا۔ ادھر خیبرپختونخوا: شدید برفباری کے باعث نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے مسافروں کے لئے ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔این ایچ اے نے شدید برف باری کے باعث این 45، این 145، این 95 اور این 90 پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے الرٹ جاری کر دیا ۔مسافر غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور برف باری والے علاقوں میں گاڑیوں پر گرپ چینز کا استعمال یقینی بنائیں۔ دیر، چترال، سوات اور شانگلہ کی شاہراہوں پر برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔
این ایچ اے نے کہا ہے کہ ٹریفک پولیس کی ہدایات پر عمل کریں، این ایچ اے کی ٹیمیں اور بھاری مشینری حساس مقامات پر تعینات ہیں، صورتحال کی 24 گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔دریں اثنا سندھ میں تفریحی مقام گورکھ ہل اسٹیشن پر موسم سرما کی پہلی برفباری ہوئی ہے جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہوگیا۔ضلع دادو میں کیرتھر کے پہاڑی دامن میں سندھ اور بلوچستان کی سرحدی پٹی پر واقع گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری کے بعد ماحوال سحر انگیز ہوگیا۔گورکھ ہل اسٹیشن پر برفباری کے بعد درجہ حرارت منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا۔یہ وادی مہران کا واحد بلند ترین تفریحی، سرد ترین اور پرفضا مقام ہے جہاں موسم سرما میں کچھ سالوں بعد برفباری ہوتی ہے۔ادھر کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 9 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کا امکان ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 23 ڈگری سینٹی گریڈ تک جاسکتا ہے۔محکمہ موسمیات نے بتایا کہ منگل کو شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 12.8ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا جبکہ اس وقت ہوا میں نمی کا تناسب 47فیصد ہے۔اس کے علاوہ شہر میں مشرق سے ہوائیں 8کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی