i پاکستان

ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیشنگوئی ،چمن اور گردونواح میں موسلادھار بارش ، نشیبی علاقے زیرآب آگئے، کوئٹہ اور گردونواحتازترین

January 26, 2026

ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ ایران کے راستے ایک اور مغربی موسمی سسٹم بلوچستان میں د اخل ہوگیا جس کی وجہ سے برف باری اور بارش شروع ہوگئی۔چمن شہر اور گردونواح میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے۔وادی کوئٹہ اور گردونواح میں ہلکی برفباری جبکہ زیارت اور قلات میں بھی برفباری ہوئی ہے۔محکمہ موسمیات نے آج منگل تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برف باری کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلوچستان، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، مری اور گلیات میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔اس کے علاوہ لاہور اور ملتان سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش ہوسکتی ہے۔مری میں بھی شدید برفانی طوفان کی پیشگوئی کی گئی ہے، ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی۔ڈی پی او نے کہا کہ آج منگل کی شام تک مری میں شدید برفباری کا امکان ہے، سیاح اور شہری رات کے وقت مری کا سفر کرنے سے مکمل گریز کریں۔

انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت گرنے سے سڑکوں پر کورا پڑ سکتا ہے، بلیک آئس پر گاڑی کے بریک کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، رات کا سفر جانی خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ڈی پی او مری نے کہا کہ اندھیرے اور دھند میں برف ہٹانے والی مشینری کا کام کرنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ٹائروں پر سنو چین کے بغیر کسی بھی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔روانگی سے قبل گاڑی کا فیول ٹینک فل رکھیں اور مکینیکل فٹنس چیک کر لیں، بریک، وائپرز، ہیٹر اور ڈی فوگر کا درست ہونا یقینی بنائیں، برف والی سڑکوں پر رفتار کم رکھیں اور اگلی گاڑی سے 50 میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔ڈاکٹر رضا تنویرنے کہا کہ ہیٹر کے استعمال کے دوران شیشے کھلے رکھیں، آکسیجن کی کمی جانی نقصان کا باعث بن سکتی ہے، دھند اور برفباری میں فوگ لائٹس اور ہیزرڈ لائٹس کا استعمال یقینی بنائیں۔شاہراہوں یا ڈھلوانوں پر گاڑی پارک نہ کریں تاکہ برف ہٹانے میں رکاوٹ نہ ہو، چیک پوسٹوں پر تعینات پولیس عملے کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں، ڈی پی او مری نے کہا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال یا حادثے کی صورت میں فوری پولیس ہیلپ لائن 15پر کال کریں۔

ادھرملک کے بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے ہر سو سفیدی چھا گئی، کیلاش میں نظارے مزید نکھر گئے۔وادی نیلم میں ایک مرتبہ پھر ہلکی برف باری ہوئی، گریس ویلی میں پانچ فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی، لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے، بجلی کی بحالی کا کام جاری رہا، گریس ویلی تک جانے والی سڑک بند کر دی گئی، وادی لیپہ میں شدید برفباری کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہرگیا۔پاک فوج کا کامیاب ہیلی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری رہا، طبی پیچیدگی کی شکار مریضہ کو ہیلی ایمرجنسی سہولت سے راولپنڈی ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔برفباری کے باعث پھنسے شہریوں کو ریسکیو کرنے کیلئے پاک فوج کی کارروائی بھی جاری رہی، کوٹلی نکیال سڑک کو ٹریفک کیلئے بحال کر دیا گیا، پیر نسورہ میں متعدد خاندانوں کو ریسکیو کرکے خوراک اور دیگر امدادی اشیا فراہم کی گئیں۔ دوسر ی جانب آزاداکشمیرمیںسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(ایس ڈی ایم اے) حالیہ برفباری کے دوران نقصانات کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ برفباری کے باعث لینڈ سلائیڈنگ سے باغ میں ایک شہری جاں بحق ہوا ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ ، برفانی تودے گرنے سے 11 گھر مکمل تباہ ہو گئے جبکہ 8 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ایس ڈی ایم اے کے مطابق دارالحکومت سے پیر چناسی شاہراہ برفباری کے باعث بند ہے جبکہ دارالحکومت سے وادی نیلم کی شاہراہ شاردہ تک بحال ہے۔برف باری کے باعث بلند بالا علاقوں اور نیلم ویلی کی بند شاہراوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، ہٹیاں بالا سے وادی لیپہ جانے والی شاہراہ کو بھی داوکھن تک بحال کردیا گیا ہے جبکہ ایس ڈی ایم اے کی جانب سے پھسلن کے باعث شہریوں کو سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اندرون وادی لیپہ کی شاہراں اور برفباری سے بند بالائی علاقوں کی شاہراوں کی بحالی کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔ ادھر وادی لیپا آزاد کشمیر کا رابطہ ضلعی ہیڈ کوارٹر ہٹیاں بالا سے منقطع ہوگیا، زمینی رابطہ منقطع ہونے پر پاک فوج نے بروقت کامیاب ہیلی ریسکیو آپریشن کیا۔طبی پیچیدگی کا شکار مریضہ کو فوری اور محفوظ انداز میں راولپنڈی ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا۔ اس کے علاوہ استور ویلی روڈ 4 روز سے بند ہے، پاراچنار میں بھی خون جما دینے والی سردی ہے جس سے رابطہ سڑکیں بند ہیں اور بجلی معطل ہے۔شدید برف باری کے باعث تیرہ میں حالات زندگی شدید متاثر ہیں، اور پاک فوج کی ریلیف سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی