وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر اعلی خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیر کو وزیراعظم آفس میں ملاقات کی ۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے وزیر اعلی خیبرپختونخوا کو ملاقات کیلئے مدعو کیا تھا، جس میں خیبر پختونخوا کی سیکیورٹی کی صورتحال سمیت اہم امور پر بات چیت کی گئی۔وزیراعلی خیبر پختونخوا نے دہشت گردی سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم کو آگاہ کیا۔ملاقات میں وفاق کے ذمہ واجبات کی ادائیگی سے متعلق بات چیت ہوئی جبکہ 8 فروری کے ممکنہ احتجاج پر بھی بات چیت کی گئی۔ملاقات میں وادی تیراہ میں آپریشن اور مقامی لوگوں کی نکل مکانی پر بات چیت ہوئی۔وزیراعظم اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے درمیان ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلی سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثنااللہ بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ذرائع پی ٹی آئی کے مطابق وزیر اعلی کے پی نے ملاقات میں وادی تیراہ، امن جرگہ اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، اس کے علاوہ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے این ایف سی معاملات پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا۔
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سب سے پہلے بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعات پر مذمت کی، وزیراعظم سے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے تعاون پر گفتگو کی، صوبے کیلئے این ایف سی،این ایچ پی اوروفاق پر بقایا جات پر بات ہوئی، انہوں نے احسن اقبال کو ذمہ داری سونپ دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے دہشتگردی پر مشترکہ لائحہ عمل پر بات ہوئی، خیبرپختونخوا حکومت اپنی جیب سے 26ارب روپے قبائلی اضلاع پر خرچ کرچکی ہے، دہشتگردوں کا کوئی صوبہ ،ملک اورنہ کوئی مذہب ہوتا ہے، دہشتگردی کی ہم سب کو بحیثیت پاکستانی مذمت کرنی چاہئے، ہمیشہ دہشتگردی کی مذمت کرتے رہیں گے۔انہوں نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی، وزیراعظم سے کسی سیاسی چیز پر بات نہیں ہوئی، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ قربانی دے رہے ہیں اس کے سامنے یہ 4ارب روپے کچھ بھی نہیں، وادی تیراہ اورکرم کے لوگ پاکستان کیلئے قربانی دے رہے ہیں، ایسے بیانات نہیں دینے چاہئیں جن سے ان کی دل آزاری ہو۔سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ وزیراعظم سے آج کی ملاقات بطور وزیراعلی میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکرشاید میں نہ بیٹھتا، خیبرپختونخوا اور عوام کے حقوق کیلئے وزیراعظم سے ملاقات ضروری تھی، دہشت گردی کے حوالے سے ایک اور خصوصی ملاقات ہو گی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی