i پاکستان

سانحہ گل پلازہ، پانی کی فراہمی میں تاخیر، فائر فائٹرز کے پاس آلات بھی نہیں تھے، رپورٹ میں انکشافتازترین

January 30, 2026

کراچی میں گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے دوران پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی جبکہ فائر فائٹرز کے پاس آلات بھی نہیں تھے ، پہلا واٹر بازر رات گیارہ بجکر 53 منٹ پر پہنچا، فائر فائٹرز کے پاس حفاظتی سامان اور مطلوبہ تربیت و مہارت موجود نہیں تھی ۔یہ انکشاف سانحہ گل پلازہ پر حکومت کی قائم کمیٹی کی رپورٹ میں کیا گیا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ میں آگ گرانڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی ، دکان مالک نے 11 سال کے بیٹے کو دکان پر چھوڑا ہوا تھا، لڑکے نے ماچس جلائی ، جو مصنوعی پھولوں پر گرگئی اور آگ بھڑکی ، آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔رپورٹ کے مطابق غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپوں نے صورتِ حال کو سنگین بنادیا، فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر ہوئی، پہلا واٹر بازر رات گیارہ بجکر 53 منٹ پر پہنچا، پانی کی مسلسل فراہمی رات 12 بجے کے بعد شروع ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوگوں کو نکالنے کے لیے لوہے کی راڈز کو کاٹنے کے لیے آلات موجود نہیں تھے، فائر فائٹرز کے پاس مناسب آلات، حفاظتی سامان اور مطلوبہ تربیت و مہارت موجود نہیں تھی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہجوم کو قابو میں رکھنے اور علاقے کو گھیرے میں لینے سے متعلق پولیس کے اقدامات موثر نہیں تھے۔رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ عمارت میں موجود خارجی راستے بند تھے یا تجاوزات قائم ہوچکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق سیڑھیوں کی چوڑائی کم کی گئی، دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی۔رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے ، خلاف ورزی پر جرمانے، جزوی بندش یا سیل کرنے کی کارروائی کی جائے۔یاد رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں 79 افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے اب تک 39 کی شناخت ہوچکی ہے، 20 کی شناخت ڈی این اے، 6 کی چہرہ شناسی اور ایک شخص کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے کی گئی ۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی