عالمی تجارتی نظام ایک بنیادی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت ترقی پذیر معیشتوں کے لیے خطرات اور مواقع دونوں پیدا ہو رہے ہیں، کیونکہ روایتی تجارتی انداز ایک زیادہ منقسم اور علاقائی بنیادوں پر قائم نظام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔اقوامِ متحدہ کی تجارت و ترقی کانفرنس کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق عالمی تجارت جغرافیائی سیاسی کشیدگی، تحفظ پسند پالیسیوں اور رسدی سلسلوں کی مسلسل ترتیبِ نو کے باعث نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ یہ عوامل سرمایہ کاری کے بہا اور عالمی قدر کے سلسلوں کو متاثر کر رہے ہیں، جن کے نمایاں اثرات ابھرتی ہوئی منڈیوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔اسی دوران کثیرالجہتی تجارتی نظام پر دبا بڑھ رہا ہے۔ عالمی تجارتی تنظیم کے اندازوں کے مطابق بڑھتے ہوئے محصولات اور پالیسیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث 2026 میں عالمی اشیائی تجارت کی شرحِ نمو کم ہو کر تقریبا 0.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ یہ کمی عالمگیریت سے علاقائیت اور زیادہ منتخب تجارتی شراکت داریوں کی طرف ایک وسیع تر منتقلی کی عکاسی کرتی ہے۔اگرچہ حقیقی ترقی کی رفتار سست ہو رہی ہے، مجموعی تجارتی حجم تاریخی طور پر بلند سطح پر برقرار ہے۔ 2025 میں عالمی تجارت 35 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جس میں ٹیکنالوجی سے متعلق اشیا کی مسلسل طلب اور رسدی نظام میں تبدیلیوں نے کردار ادا کیا۔
اسی کے ساتھ ترقی پذیر ممالک کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو تقریبا 6.8 کھرب ڈالر تک پہنچ چکی ہے اور عالمی تجارت کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے پر مشتمل ہے۔ یہ رجحان پاکستان جیسے ممالک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے جو علاقائی اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کے ساتھ تعلقات مضبوط بنا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ ساختی تبدیلیاں ان ممالک کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہی ہیں جو بدلتے ہوئے رسدی سلسلوں میں خود کو شامل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پائیدار ترقیاتی پالیسی ادارے کے عابد قیوم سلیری کے مطابق عالمی تجارت میں تقسیم اکثر پیداواری نظام کی نئی ترتیب کا باعث بنتی ہے۔ ان کے مطابق وہ ممالک جو مسابقتی پیداواری لاگت اور مثر جغرافیائی روابط رکھتے ہیں، منتقل ہونے والی صنعتوں اور تجارتی سرگرمیوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں زیادہ کامیاب ہو سکتے ہیں۔اسی خیال کی تائید کرتے ہوئے آل پاکستان بزنس فورم کے پالیسی مشیر کامران احمد کہتے ہیں کہ اصولوں پر مبنی کثیرالجہتی نظام کی کمزوری دوطرفہ اور علاقائی تجارتی معاہدوں کی اہمیت بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی جغرافیائی حیثیت جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطی کو جوڑتی ہے ایک بڑھتے ہوئے علاقائی تجارتی ماحول میں قدرتی برتری فراہم کرتی ہے۔
دستیاب اعداد و شمار اس بدلتے منظرنامے کی مزید وضاحت کرتے ہیں۔ اگرچہ حقیقی تجارت کی نمو سست ہو رہی ہے، حالیہ برسوں میں تجارتی مالیت میں اضافہ جاری ہے، جہاں برآمدات میں تقریبا 6.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس میں قیمتوں اور مخصوص شعبوں کی طلب کا کردار ہے۔ اسی کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری کے بہا اب محض لاگت کی بنیاد پر نہیں بلکہ تزویراتی عوامل جیسے قومی سلامتی، ٹیکنالوجی پر کنٹرول اور توانائی تک رسائی سے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔پاکستان کے لیے یہ صورتحال ملے جلے امکانات رکھتی ہے۔ ایک طرف بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی اور کمزور عالمی طلب برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل جیسے روایتی شعبوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ دوسری طرف رسدی سلسلوں کی نئی ترتیب انفارمیشن ٹیکنالوجی، ہلکی صنعتوں اور زرعی برآمدات جیسے شعبوں میں نئے مواقع فراہم کر رہی ہے۔علاقائی تجارت اور متبادل اقتصادی راہداریوں پر بڑھتا ہوا زور بھی پاکستان کے امکانات کو بہتر بنا سکتا ہے۔
جیسے جیسے ممالک مختصر اور محفوظ رسدی راستوں کو ترجیح دے رہے ہیں، رابطہ سازی اور لاجسٹکس میں سرمایہ کاری پاکستان کو خطے میں ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر مضبوط بنا سکتی ہے۔تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے بروقت اور مثر پالیسی اقدامات ضروری ہوں گے۔ تجارتی سہولت کاری میں بہتری، برآمدی شعبوں میں تنوع اور مجموعی مسابقت میں اضافہ پاکستان کے لیے ناگزیر ہوگا تاکہ وہ بدلتے ہوئے عالمی تجارتی ماحول کا مثر جواب دے سکے۔اس تناظر میں عالمی تجارتی نظام کی یہ تبدیلی ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگرچہ روایتی ڈھانچوں کی کمزوری غیر یقینی صورتحال پیدا کرتی ہے، لیکن یہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کے لیے خود کو نئے انداز میں پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہے۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ان ساختی تبدیلیوں کو موثر حکمتِ عملی اور مستقل اصلاحات کے ذریعے حقیقی معاشی فوائد میں تبدیل کرے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک