پاکستان میں 5جی ٹیکنالوجی کے مکمل نفاذ میں مزید 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ یہ نظام ابھی ملک بھر میں ابتدائی مرحلے میں متعارف کرایا جا رہا ہے،انووی ٹیلی کام کے سربراہ زیشان میانور نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ابھی تک صارفین کی جانب سے مکمل طلب کا مرحلہ سامنے نہیں آیا۔ مقامی سازندگان نے اپنی مصنوعات کو ہم آہنگ کرنا شروع کر دیا ہے، 5جی آلات کی تیاری کر رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے تیاری جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ اصل بہتری آئندہ 12 سے 18 ماہ میں سامنے آئے گی جب نیٹ ورک کی دستیابی بڑھے گی اور صارفین کی جانب سے استعمال میں تیزی آئے گی۔فی الحال 5جی سہولت والے اسمارٹ فونز کا حصہ بہت کم ہے۔ مقامی طور پر تیار کیے جانے والے فونز میں ان کا تناسب ابھی صرف چند فیصد ہے کیونکہ مارکیٹ ابھی 4جی سے منتقل ہو رہی ہے۔پاکستان نے حال ہی میں کامیاب نیلامی کے بعد 5جی ٹیکنالوجی کا آغاز کیا ہے۔ عالمی سطح پر چین، جنوبی کوریا اور امریکہ اس میدان میں آگے ہیں، جہاں مضبوط بنیادی ڈھانچے اور بڑی صارف بنیاد کی بدولت یہ نظام تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دیگر ممالک میں جاپان، اسپین، برطانیہ، آسٹریلیا، سعودی عرب اور کینیڈا بھی اس ٹیکنالوجی کو اپنانے میں سرگرم ہیں۔
ایشیا بحرالکاہل کا خطہ عالمی 5جی رابطوں کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔اگرچہ پاکستان میں یہ صنعت نسبتا نئی ہے، مگر مقامی موبائل فون سازی نے نمایاں ترقی کی ہے اور صرف پانچ سال میں ماہانہ 30 لاکھ سے زائد فون تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس ترقی سے سالانہ درآمدی اخراجات میں تقریبا ڈیڑھ ارب ڈالر کی کمی آئی ہے۔ ملک بھر میں تقریبا 29 کارخانے، زیادہ تر لاہور اور کراچی میں، مقامی طلب کا تقریبا 95 فیصد پورا کر رہے ہیں۔زیشان میانور نے امید ظاہر کی کہ جیسے جیسے نیٹ ورک کا دائرہ وسیع ہوگا اور سستے 5جی آلات متعارف کرائے جائیں گے، اس ٹیکنالوجی کا استعمال تیزی سے بڑھے گا۔انہوں نے کہاکہ صنعت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے، اگرچہ رفتار سست ہے۔ مقامی سازندگان 5جی آلات کی تیاری شروع کر چکے ہیں اور ابتدائی پیداواری اہداف مرحلہ وار حاصل کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو 5جی کے فروغ کے لیے صرف پالیسی اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اور مکمل نظام کی ترقی پر توجہ دینا ہوگی۔
ان کے مطابق حکومت کو چاہیے کہ فریکوئنسی پالیسی کو مستحکم اور واضح بنائے، 5جی آلات اور پرزہ جات پر ڈیوٹی اور ٹیکس کم کرے، اور ضابطہ جاتی عمل کو آسان بنائے۔انہوں نے خاص طور پر پنجاب حکومت کو مشورہ دیا کہ فائبر نیٹ ورک کی تعمیر کے لیے اجازت ناموں اور منظوری کے عمل کو سادہ بنایا جائے۔مزید برآں، انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عوام کے لیے 5جی آلات کی خریداری آسان بنانے کے لیے اقساط، مالی سہولتوں اور سرکاری و نجی شراکت داری کے پروگرام متعارف کرائے۔دوسری جانب لاہور، کراچی اور اسلام آباد کے موبائل فون تاجروں نے بھی 5جی کے سست پھیلا کی تصدیق کی ہے اور اس کی وجہ زیادہ قیمتوں کو قرار دیا ہے، جو ٹیکس اور ڈیوٹی کی وجہ سے بڑھ گئی ہیں۔آل پاکستان موبائل فون تاجر تنظیم کے سیکرٹری جنرل محمد عثمان شیخ نے کہاکہ 5جی موبائل فونز کی طلب ابھی بہت کم ہے۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ درآمدی موبائل فونز پر ٹیکس کم کیے جائیں تاکہ نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپنایا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر صارفین اب بھی محدود قوتِ خرید کے باعث 4جی یا اس سے کم درجے کے فونز کو ترجیح دیتے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک