چین کی جانب سے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے حالیہ سخت اقدامات پاکستان کے لیے مفید سبق فراہم کرتے ہیں، جہاں غیر قانونی شکار، اسمگلنگ اور قدرتی مسکن پر دبا جیسے مسائل درپیش ہیں۔چائنا ڈیلی کے مطابق چین کی وزارتِ عوامی سلامتی نے جنگلی حیات سے متعلق جرائم کے خلاف ایک نئی مہم شروع کی ہے، جس میں بندوقوں اور ڈرون کے ذریعے غیر قانونی شکار، پرندوں کو زہر دینا، اور محفوظ انواع کی آن لائن فروخت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔2025 کی مہم کے دوران پولیس نے 9,705 فوجداری مقدمات درج کیے، جن میں سے 3,562 پرندوں سے متعلق تھے۔ حکام کے مطابق 350 سے زائد کیسز کو آپس میں منسلک کیا گیا، 950 سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور 88 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا، جو مربوط کارروائی کی عکاسی کرتا ہے۔اگرچہ چین کے نتائج مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی کو ظاہر کرتے ہیں، پاکستان میں جنگلی حیات کے تحفظ کو اب بھی کئی نظامی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے مطابق ملک غیر قانونی جنگلی حیات کی تجارت کے لیے ایک ذریعہ اور گزرگاہ دونوں کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں جنگلی طوطوں کی آبادی، جو کبھی پنجاب، سندھ اور آزاد کشمیر میں عام تھی، غیر قانونی پالتو جانوروں کی تجارت کے باعث نمایاں طور پر کم ہو چکی ہے، اور چار مقامی اقسام اب مقامی سطح پر خطرے سے دوچار ہیں۔
جنگلی حیات کے ماہر ڈاکٹر محمد اویس رسول کے مطابق پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت جنگلی حیات کے محکموں، پولیس اور کسٹمز کے درمیان حقیقی وقت میں مضبوط رابطے کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مشترکہ موبائل ایپ کے ذریعے فوری معلومات کی ترسیل، مشترکہ ٹاسک فورسز اور معیاری طریقہ کار کے ذریعے نفاذ میں موجود خلا کو کم کیا جا سکتا ہے، جس سے ردِعمل کی رفتار اور نظام کی ساکھ دونوں بہتر ہوں گی۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کو جنگلی حیات کے تحفظ میں شامل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، مشینی سیکھنے اور اشیا کے باہمی رابطے پر مبنی نظام دیگر ممالک میں مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں، جن میں کیمرے، ڈرون اور سینسر شامل ہیں۔انہوں نے عملی اقدامات میں آبی گزرگاہوں اور ہجرتی راستوں کے لیے سخت موسمی تحفظ، نگرانی کے جدید آلات کی تنصیب، کمیونٹی کی سطح پر تحفظ کے پروگراموں کا فروغ، اور ایک قومی سطح کا رابطہ پلیٹ فارم بنانے کی تجویز دی۔ورلڈ فیزنٹ ایسوسی ایشن پاکستان کے کنزرویشن افسر اذان کرم نے بھی مربوط نفاذی نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق الگ الگ چھاپے اور کارروائیاں مثر نتائج نہیں دے سکتیں
جب تک کہ صوبائی محکمے، پولیس اور کسٹمز ایک مشترکہ انٹیلی جنس نظام کے تحت کام نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ اس ہم آہنگی کو تربیتی ورکشاپس کے ذریعے مضبوط بنایا جانا چاہیے تاکہ جنگلی حیات کے قوانین، اسمگلنگ کے مراکز اور راستوں کے بارے میں آگاہی بڑھے۔ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جدید اور کم لاگت حل دونوں کو یکجا کرنا چاہیے۔ انہوں نے گولیوں کی آواز پہچاننے والے آلات، حیاتیاتی تنوع کی نگرانی کے لیے کیمرہ ٹریپس، اور ہوائی اڈوں پر جنگلی حیات اسکینرز جیسے اقدامات کی مثالیں دیں۔انہوں نے شہری رضاکاروں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا، جو مختلف پلیٹ فارمز پر حیاتیاتی مشاہدات شیئر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ان رضاکاروں کے ساتھ بہتر رابطہ ابتدائی وارننگ نظام کو مضبوط اور نگرانی کے دائرہ کار کو وسیع کر سکتا ہے۔مزید برآں انہوں نے قانونی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا تاکہ نظر انداز ہونے والی انواع، خصوصا غیر قانونی تجارت میں شامل حشرات، کو بھی تحفظ دیا جا سکے، اور چترال اور سندھ بلوچستان کے راستوں جیسے اہم ہجرتی علاقوں میں پرندوں کی شناختی مہمات شروع کی جائیں۔
اسنو لیپرڈ ٹرسٹ کی ایک تحقیق کے مطابق 2020 میں پاکستان میں جنگلی حیات سے متعلق 327 غیر قانونی سرگرمیوں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ نفاذ اب بھی محدود ہے۔ برفانی چیتے کے غیر قانونی شکار پر زیادہ سے زیادہ جرمانہ تقریبا 45 ہزار روپے ہے، جو غیر قانونی مارکیٹ میں اس کی قیمت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔اس کے برعکس چین میں حالیہ عدالتی فیصلوں میں سخت سزائیں دی جا رہی ہیں۔ ایک کیس میں ایک شخص کو 880 سے زائد پرندے پکڑنے پر سات سال قید اور 30 ہزار یوآن جرمانہ کیا گیا۔ماہرین کے مطابق چین کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مضبوط ہم آہنگی اور سخت سزائیں مثر ثابت ہو سکتی ہیں، جبکہ پاکستان کی کامیابی بہتر حکمرانی، اداروں کے درمیان تعاون اور مناسب ٹیکنالوجی کے استعمال پر منحصر ہوگی۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک