پاکستان میں اس سال آم کی پیداوار کم رہنے کا امکان ہے کیونکہ شدید موسمی واقعات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات نے پنجاب کے اہم کاشتکار علاقوں میں پھول آنے اور پھل بننے کے عمل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ملتان کے آم تحقیقاتی ادارے کے سابق سربراہ اور آم کے ماہر عبدالغفار گریوال نے ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 3 سے 5 مارچ کے دوران پنجاب کے آم والے علاقوں میں غیر معمولی حدت کی لہر آئی، جیسی میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھی۔ درجہ حرارت اچانک چند دنوں کے لیے 38 سے 39 درجے سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جس سے کھلے پھول سوکھ گئے جو خاص طور پر رحیم یار خان کے علاقے میں ہیں۔انہوں نے وضاحت کی کہ اس غیر معمولی گرمی کے بعد درجہ حرارت اچانک کم ہو کر 15 درجے سینٹی گریڈ رہ گیا، جس نے جرگ رسانی کے عمل کو متاثر کیا۔ پھول کا نر حصہ غیر فعال ہو گیا، جس کے نتیجے میں بار آوری نہ ہو سکی اور بالآخر پھل نہیں بن سکا۔گریوال کے مطابق اس کے اثرات مختلف اقسام پر مختلف ہیں، مگر خاص طور پر سمر بہشت چونسا قسم، جو پنجاب کی آم کی پیداوار کا 35 فیصد سے زیادہ حصہ ہے، شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس کی حالت بالکل بھی اچھی نہیں۔ اتنی زیادہ شگوفہ آوری کے باوجود میں نے کبھی ایسی خراب صورتحال نہیں دیکھی، انہوں نے کہاکہ لیٹ رٹول قسم کے درخت بھی تقریبا مکمل طور پر صاف ہو گئے ہیں، جبکہ سندھڑی قسم کچھ علاقوں جیسے رحیم یار خان میں نسبتا بہتر ہے مگر ملتان اور دیگر علاقوں میں کمزور ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں تقریبا 30 فیصد آم کی فصل متاثر ہوئی ہے، جبکہ طویل ٹھنڈے موسم کے باعث آم کی بگڑا بیماری میں اضافہ بھی مزید نقصان کا سبب بنا ہے۔ میں نے شدید گرمی سے فصل کو نقصان ہوتے دیکھا ہے، مگر ٹھنڈے موسم سے ایسی تباہی پہلی بار دیکھی ہے۔صورت حال کو کیڑوں کے حملوں نے مزید خراب کر دیا ہے، خاص طور پر آم کے رس چوسنے والے کیڑوں کی افزائش جاری ہے، کیونکہ بارشوں اور کسانوں کے محدود وسائل کی وجہ سے سپرے کا باقاعدہ سلسلہ متاثر ہوا ہے۔ ملتان، نواب پور، کبیر والا اور خانیوال کے بعض علاقوں میں ژالہ باری نے باغات کو مزید نقصان پہنچایا ہے، جس سے شدید تباہی کا ایک علاقہ بن گیا ہے۔ملتان آم کاشتکار تنظیم کے صدر ظفر مہے نے بھی ان خدشات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ژالہ باری اور بے ترتیب موسم نے جنوبی پنجاب میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے کہاکہ کچھ علاقوں میں بہت زیادہ نقصان ہوا ہے جبکہ کچھ جگہوں پر یہ تقریبا 40 فیصد تک ہے۔ پہلے ٹھنڈ اور بارش نے پھولوں کو نقصان پہنچایا، پھر جو پھل بن چکے تھے وہ ژالہ باری سے تباہ ہو گئے، اور کئی علاقوں میں انڈے جتنے بڑے اولے گرے۔انہوں نے مزید کہا کہ شدید موسمی اتار چڑھا، جیسے طویل ٹھنڈ سے جرگ رسانی متاثر ہونا اور اچانک گرمی سے پھول جل جانا، نے پھل بننے کے عمل کو بہت کم کر دیا ہے۔
سردی کے دوران شہد کی مکھیوں اور مکھیوں کی کم سرگرمی کے باعث باہمی جرگ رسانی بھی متاثر ہوئی۔ اہم قسم سمر بہشت چونسا بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ سرد موسم کے باعث آم کی بگڑا بیماری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بیماری پودے کی غذائیت کو ختم کر رہی ہے اور کاشتکاروں کو تباہ کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ گندم کی کٹائی کے موسم میں مزدوروں کی کمی بھی اس بیماری پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے، کیونکہ اس کے لیے بار بار کٹائی ضروری ہوتی ہے۔دونوں ماہرین نے نشاندہی کی کہ 2022 سے موسمیاتی تبدیلی آم کی پیداوار کو مسلسل متاثر کر رہی ہے اور گزشتہ تین برسوں میں بار بار جھٹکے دیکھنے میں آئے ہیں۔ اس سال خانیوال جیسے نسبتا مستحکم علاقے بھی شدید نقصان سے نہیں بچ سکے۔گرمی کی لہروں، سردی کے وقفوں، ژالہ باری، کیڑوں اور بیماریوں جیسے متعدد موسمی دبا ایک ساتھ آنے کے باعث کاشتکاروں کو خدشہ ہے کہ آم کی پیداوار معمول سے بہت کم رہے گی، جس سے ملکی فراہمی اور برآمدات دونوں متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک