کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے مطابق پاکستان روسی منڈی کے دوبارہ کھلنے سے بہتر فائدہ اٹھا سکتا ہے اگر زیادہ برآمد کنندگان کو شامل کیا جائے اور ایران کے راستے بڑھتے ہوئے نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے کے لیے مال برداری پر سبسڈی فراہم کی جائے۔آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلی وحید احمد کے مطابق روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو آلو برآمد کرنے کا وقت تقریبا 45 دن تک محدود ہوتا ہے، جس کے بعد وہاں کی مقامی فصل مارکیٹ میں آ جاتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر روس ایک ماہ پہلے درآمدی پابندی ختم کر دیتا تو پاکستان کولڈ اسٹوریج میں موجود اضافی ذخیرے کا بڑا حصہ برآمد کر سکتا تھا۔روس نے مئی 2025 میں پاکستان سے آلو کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی، خاص طور پر پنجاب اور اوکاڑہ سے آنے والی کھیپ پر، جس کی وجہ زرعی صحت سے متعلق خدشات تھے۔ یہ پابندی 11 ماہ بعد اس وقت ختم ہوئی جب پلانٹ پروٹیکشن ڈائریکٹوریٹ اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کی جانب سے لیبارٹری رپورٹس روسی حکام کو فراہم کی گئیں۔
تاہم برآمد کنندگان کو بڑھتے ہوئے لاجسٹک مسائل کا سامنا ہے۔ افغانستان کے راستے تجارتی گزرگاہوں کی بندش سے وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی متاثر ہوئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطی میں عدم استحکام نے ایران کے ذریعے متبادل راستوں کو بھی مشکل بنا دیا ہے۔وحید احمد کے مطابق ترسیل کا وقت پہلے کے 7 سے 8 دن کے مقابلے میں بڑھ کر 20 دن ہو گیا ہے۔ پہلے یہ سامان افغانستان کے راستے دولتِ مشترکہ آزاد ریاستوں تک جاتا تھا، مگر اب ایران کے ذریعے یہ عمل زیادہ طویل اور مہنگا ہو گیا ہے۔مال برداری کے اخراجات دگنے ہو چکے ہیں، جہاں کنٹینر کا کرایہ 3,500 ڈالر سے بڑھ کر 7,000 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سمندری راستہ بھی مثر نہیں کیونکہ اس میں 70 دن تک لگ سکتے ہیں، جو آلو جیسی جلد خراب ہونے والی جنس کے لیے مناسب نہیں۔ان مشکلات کے باوجود پاکستان ملائیشیا اور سری لنکا سمیت دو درجن سے زائد ممالک کو آلو برآمد کرتا ہے۔ 2024 میں پاکستان نے 169 ملین ڈالر مالیت کے آلو برآمد کیے اور دنیا میں 11واں بڑا برآمد کنندہ رہا۔برآمد کنندگان کے مطابق بلند مال برداری اخراجات، لاجسٹک رکاوٹیں اور ناکافی کولڈ اسٹوریج سہولیات بدستور بڑے مسائل ہیں۔کاشتکار وفاقی حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ روس اور وسطی ایشیائی منڈیوں میں مسابقت بڑھانے کے لیے مال برداری پر سبسڈی دی جائے۔
پاکستان پوٹیٹو گروورز کوآپریٹو سوسائٹی کے نائب صدر چوہدری مقصود احمد جٹ کے مطابق پنجاب کی وزیر اعلی نے جنوری میں 25 فیصد مال برداری سبسڈی کی تجویز دی تھی، جو تاحال وزارتِ تجارت میں زیر غور ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب پوٹیٹو بورڈ کی بحالی سے کسانوں کو برآمدات اور مقامی فروخت دونوں میں بہتر قیمتیں مل سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ برآمدی کمیٹیوں میں کاشتکاروں کی نمائندگی شامل کی جائے تاکہ پالیسیاں زمینی حقائق کے مطابق بن سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت کی آلو برآمدی کمیٹی میں دیگر صوبوں کی نمائندگی تو موجود ہے مگر پنجاب کی نہیں، حالانکہ ملک کی 90 فیصد سے زائد آلو کی پیداوار پنجاب میں ہوتی ہے۔اس سال پاکستان میں آلو کی پیداوار 12 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو معمول کے 8 سے 9 ملین ٹن کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے، جس کے باعث قیمتیں گر گئی ہیں۔مقصود جٹ نے زور دیا کہ پاکستان کو اس صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی چاہیے اور آلو کی اقسام میں تنوع لانا چاہیے، تاکہ صنعتی استعمال اور عام خوراک دونوں کے لیے بہتر مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک