پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے مالی سال 27-2026 کے مالیاتی بل میں برآمدات کے فروغ کے لئے کئے گئے اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ سرمایہ کاری کے فروغ، مسابقت میں اضافے اور برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کے لئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔کونسل کے چیئرمین فواد انور نے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو ارسال کردہ خطوط میں حکومت کی جانب سے معاشی ترقی کے اہداف اور مالی نظم و ضبط کے درمیان توازن برقرار رکھنے اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے اصلاحات متعارف کرانے کی کوششوں کو سراہا۔انہوں نے تنخواہ دار طبقے کے لیے آمدنی پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں ردوبدل کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے لوگوں کی قابلِ خرچ آمدنی میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں ملکی طلب بڑھے گی اور برآمدی صنعتوں کے لیے افرادی قوت مزید مضبوط ہوگی۔فواد انور نے پانچ سو ملین روپے تک قابلِ ٹیکس آمدنی رکھنے والی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس میں نرمی کو بھی پیداواری شعبے کے حق میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ ان کے مطابق اس اقدام سے کاروباری توسیع، دوبارہ سرمایہ کاری اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے برآمد کنندگان پر عائد سپر ٹیکس کے خاتمے کے فیصلے کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمدی کاروبار پر ٹیکس کا بوجھ کم ہوگا، عالمی منڈی میں مسابقت بہتر ہوگی اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مثبت پیغام ملے گا۔چیئرمین پاکستان ٹیکسٹائل کونسل نے برآمدی آمدنی پر مجموعی محصول کو دو فیصد سے کم کرکے ایک اعشاریہ پچیس فیصد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے برآمد کنندگان کو مالی دبا میں کمی اور رقوم کی روانی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔بجٹ کی مجموعی سمت کی حمایت کرتے ہوئے فواد انور نے حکومت کے برآمدی ایجنڈے سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی بھی تجویز دی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک اعشاریہ پچیس فیصد کاروباری حجم پر عائد ٹیکس کو برآمد کنندگان کی آمدنی پر مکمل اور آخری ٹیکس تصور کیا جائے تاکہ ضابطوں پر عمل درآمد آسان ہو، تنازعات کم ہوں اور کاروباری اداروں کو طویل المدتی منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری میں یقین حاصل ہو۔متبادل تجویز کے طور پر انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر آخری ٹیکس نظام نافذ نہیں کیا جا سکتا تو برآمدی آمدنی پر کارپوریٹ ٹیکس کی شرح کم کرکے پندرہ فیصد کردی جائے۔
ان کے مطابق اس سے پاکستان کا ٹیکس ڈھانچہ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے علاقائی حریف ممالک کے قریب آ جائے گا اور برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔فواد انور نے کہا کہ مالیاتی بل 27-2026 اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومت معاشی ترقی اور زرمبادلہ کے حصول میں برآمدی شعبے کی اہمیت کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس نظام میں ہدفی بہتریاں اس شعبے کی برآمدات بڑھانے، سرمایہ کاری متوجہ کرنے اور پائیدار معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنائیں گی۔واضح رہے کہ ٹیکسٹائل صنعت پاکستان کا سب سے بڑا برآمدی شعبہ اور روزگار و زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہے۔ صنعت سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ برآمدات کی رفتار برقرار رکھنے اور قومی معاشی اہداف کے حصول کے لیے ایک مستحکم اور مسابقتی ٹیکس نظام ناگزیر ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک