چین کی وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی معاشی اور بنیادی ڈھانچے کی سرگرمیاں پاکستان کے لیے ایک اہم موقع پیدا کر رہی ہیں کہ وہ خطے میں تجارتی اور ٹرانزٹ مرکز کے طور پر اپنی حیثیت مضبوط کرے اور گوادر اور کراچی بندرگاہوں کے ذریعے وسطی ایشیا اور مغربی چین کو عالمی سمندری منڈیوں سے جوڑ سکے۔سرکاری چینی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین اور وسطی ایشیا کے پانچ ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 94.8 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا۔خطے میں ریل مال برداری میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق 2024 میں چین نے وسطی ایشیا کے لیے 11 ہزار 920 مال بردار ٹرین سفر کیے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہیں۔یہ رجحان 2025 میں بھی برقرار رہا اور پہلے سات ماہ میں 8 ہزار 526 مال بردار ٹرین سفر ریکارڈ کیے گئے جو سالانہ بنیاد پر 23.2 فیصد اضافہ ظاہر کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق چین اور وسطی ایشیا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیاں پاکستان کے ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی اہمیت میں اضافہ کر رہی ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ چین مغربی علاقوں کو بحیرہ عرب اور مشرق وسطی کی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے زیادہ مختصر اور متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔
پاکستان نے حالیہ عرصے میں چین اور ایران کے راستے متبادل مغربی تجارتی راہداریوں کو فعال کیا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ان اقدامات کا مقصد افغانستان پر انحصار کم کرنا اور قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط بنانا ہے۔اطلاعات کے مطابق کرغزستان سے پہلی کھیپ حال ہی میں چین سے منسلک نئے تجارتی راستے کے ذریعے پاکستان کی جنوبی بندرگاہوں تک پہنچ چکی ہے۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ازبکستان، افغانستان اور پاکستان کے درمیان مجوزہ ریلوے منصوبہ وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے اور خطے میں تجارتی و ٹرانزٹ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔یہ مجوزہ ریلوے راہداری ازبکستان کے شہر ترمذ سے شروع ہو کر افغانستان کے راستے پاکستان تک پہنچے گی جس سے مال برداری کے وقت میں نمایاں کمی متوقع ہے۔علاقائی سطح پر اس منصوبے کو مزید حمایت بھی حاصل ہو رہی ہے۔ ازبکستان نے 2026 کے آغاز میں اس ٹرانس افغان ریلوے کے مشترکہ فزیبلٹی عمل کو آگے بڑھانے کی باضابطہ منظوری دی ہے جبکہ قازقستان نے بھی پاکستان کی بندرگاہوں تک ریلوے رابطے کے لیے سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر خالد ولید کے مطابق چین کی مغربی جانب تجارتی توسیع خطے میں مال برداری کے رجحانات کو پاکستان کے حق میں تبدیل کر رہی ہے۔ان کے مطابق وسطی ایشیا اب بھی طویل اور مہنگے زمینی راستوں پر انحصار کرتا ہے تاہم اگر پاکستان کسٹمز نظام میں بہتری، محفوظ ٹرانزٹ اور جدید لاجسٹکس سہولیات فراہم کرے تو یہ خطے کے لیے مختصر ترین تجارتی راستہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کی اہمیت صرف چین کے سی پیک منصوبے تک محدود نہیں بلکہ یہ وسیع یوریشیائی سپلائی چینز میں ایک مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔ایک لاجسٹکس ماہر کے مطابق متبادل علاقائی راہداریوں کی پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ اب علاقائی تجارت محض منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ راہداری مستحکم ہو جاتی ہے تو پاکستان کے لاجسٹکس، اسٹوریج، کسٹمز اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں نمایاں اضافہ ہوگا، تاہم اس کے لیے پالیسی تسلسل، ڈیجیٹل کسٹمز نظام اور سرحدی انتظام کی بہتری ناگزیر ہے۔ماہرین کے مطابق چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت بدلتے ہوئے علاقائی روابط پاکستان کے لیے مستقبل میں تجارت، سرمایہ کاری اور ٹرانزٹ آمدن کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں بشرطیکہ زمینی اور ریلوے رابطوں کے منصوبے بروقت اور مثر طریقے سے آگے بڑھیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک