i آئی این پی ویلتھ پی کے

چین کے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے سے سی پیک میں عوامی فلاح پر مبنی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے،ویلتھ پاکستانتازترین

August 06, 2026

چین کا پندرہواں پانچ سالہ منصوبہ (2026-2030) جس میں اعلی معیار کی ترقی، جدت اور عوامی فلاح کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے، پاکستان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا کیونکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک ایک ایسے نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس کی توجہ انسانی وسائل، روزگار، معاش اور مقامی آبادی کی ترقی پر مرکوز ہے۔ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی ترجیحات سی پیک 2 کے نئے رخ سے ہم آہنگ ہیں جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں سے آگے بڑھتے ہوئے "چھوٹے مگر مثر" منصوبوں کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ان منصوبوں کا مقصد تعلیم، صحت، فنی تربیت، روزگار، زراعت اور دیہی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ چین کا نیا پانچ سالہ منصوبہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں اس تبدیلی کو مزید تقویت دیتا ہے جس کے تحت صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے بجائے انسانی ترقی میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اگر پاکستان سی پیک 2 کو مہارتوں کی ترقی، تعلیم، صحت اور کمیونٹی کی سطح کے منصوبوں کے ساتھ مثر انداز میں ہم آہنگ کر دے تو اس سے نہ صرف زیادہ جامع معاشی ترقی ممکن ہوگی بلکہ عوام کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے میکس ما نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعاون کے اگلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل کی ترقی کو بھی مساوی اہمیت دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ چین نے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے شعبے میں وسیع تجربہ حاصل کیا ہے اور اگر یہ تجربہ پاکستان کے ساتھ شیئر کیا جائے تو نوجوانوں کو صنعتوں کی ضروریات کے مطابق مہارتیں فراہم کی جا سکیں گی جس سے ان کی ملازمت کے مواقع بڑھیں گے اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔ان کے مطابق پاکستانی اداروں اور چینی فنی تربیتی اداروں کے درمیان مضبوط تعاون کے ذریعے اساتذہ کی تربیت، ڈیجیٹل تعلیم اور تعلیمی اداروں و صنعت کے درمیان روابط کو فروغ دے کر پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیتی نظام کو جدید بنایا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح پاکستانی نوجوان ابھرتی ہوئی صنعتوں کے لیے بہتر طور پر تیار ہوں گے اور ملکی و بین الاقوامی روزگار کی منڈی میں زیادہ مثر انداز میں مقابلہ کر سکیں گے۔میکس ما نے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت پاکستان اور چین کے مشترکہ فنی تربیتی منصوبے کو اس تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔ اس منصوبے کے تحت آئندہ پانچ برسوں میں ایک لاکھ نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتیں سکھائی جائیں گی جن میں 10 ہزار کو کلاس رومز میں اور 90 ہزار کو آن لائن تربیت دی جائے گی جبکہ دو سال کے اندر ایک ہزار ماسٹر ٹرینرز بھی تیار کیے جائیں گے تاکہ پاکستان میں تربیتی نظام کو طویل مدت کے لیے مضبوط بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے نئے مرحلے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے جو براہِ راست لوگوں کے روزگار اور معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہارتوں کی ترقی، ڈیجیٹل تعلیم اور کاروباری سرگرمیوں کا فروغ صرف بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے گھریلو آمدنی میں اضافہ کر سکتا ہے۔پاکستان کے سابق سفیر برائے چین مسعود خان نے بھی ان خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ چین کی نئی ترقیاتی حکمت عملی سی پیک 2 کے ان مقاصد سے ہم آہنگ ہے جن میں زراعت، صحت، تعلیم، فنی تربیت، غربت میں کمی اور دیہی ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی پاکستان کو اپنے دیرینہ سماجی و معاشی مسائل حل کرنے، انسانی وسائل کی کمی دور کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کا موقع فراہم کرتی ہے کہ پاک چین تعاون کے ثمرات نچلی سطح تک عوام کو پہنچیں۔مسعود خان کے مطابق پاکستان اپنی قومی ترقیاتی ترجیحات کو عوامی فلاح پر مبنی منصوبوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ایسے منصوبے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا کریں گے بلکہ انسانی وسائل کو مضبوط بنانے اور مقامی آبادی کو زیادہ بااختیار بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر پاکستان اور چین کا تعاون روایتی انفراسٹرکچر منصوبوں سے آگے بڑھ کر ایسے شعبوں تک وسیع کیا جائے جو براہِ راست عوام کی زندگی بہتر بناتے ہوں تو یہ شراکت داری زیادہ جامع، پائیدار اور عام شہریوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک