چین میں الیکٹرک گاڑیوں اور بیٹریوں کی تیز رفتار پیداوار میں اضافہ پاکستان کے لیے ایک اہم صنعتی موقع پیدا کر رہا ہے جبکہ اسلام آباد نئی توانائی والی گاڑیوں کی مقامی تیاری، ایندھن کی درآمد میں کمی اور بیٹری کی مقامی صنعت کے فروغ کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 میں عالمی بیٹری پیداواری صلاحیت میں تقریبا 30 فیصد اضافہ ہوا جو 3 ٹیرا واٹ آور سے تجاوز کر گئی۔ اسی طرح دنیا کی تقریبا 85 فیصد بیٹری سیل پیداواری صلاحیت چین میں مرکوز رہی جبکہ عالمی بیٹری مینوفیکچرنگ کا 75 فیصد سے زائد حصہ بھی چین کے پاس ہے جو صاف توانائی کی سپلائی چین میں اس کی مضبوط پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں 1 کروڑ 73 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں تیار کی گئیں جن میں سے چین نے 1 کروڑ 24 لاکھ گاڑیاں تیار کیں جو عالمی پیداوار کا 70 فیصد سے زائد حصہ بنتا ہے۔ یہ رجحان پاکستان کے لیے چینی ٹیکنالوجی، پرزہ جات اور بیٹری اسمبلنگ یونٹس کو مقامی صنعتی ڈھانچے میں لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔پاکستان کی قومی الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025 تا 2030 کے مطابق 2030 تک نئی گاڑیوں کی فروخت میں 30 فیصد حصہ الیکٹرک گاڑیوں کا بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق اس منتقلی سے سالانہ 2 ارب 7 کروڑ لیٹر ایندھن کی بچت، تقریبا ایک ارب ڈالر کے زرمبادلہ میں کمی، 45 لاکھ ٹن کاربن اخراج میں کمی اور صحت کے شعبے میں 40 کروڑ ڈالر سے زائد کے اخراجات میں کمی ممکن ہوگی۔پالیسی کے تحت صنعتی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھی جا رہی ہے اور جولائی 2025 تک 65 کمپنیوں کو مقامی سطح پر دو اور تین پہیوں والی برقی گاڑیاں بنانے کے سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں جبکہ برقی گاڑیوں کی تعداد 2021 کے 567 سے بڑھ کر جون 2025 تک 80 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔توانائی کے شعبے پر دبا بھی اس تبدیلی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025 کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی طلب میں 7 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ٹرانسپورٹ سیکٹر ملک کی مجموعی کھپت کا تقریبا 80 فیصد استعمال کر رہا ہے جس سے ایندھن کی درآمدات اور زرمبادلہ پر دبا بڑھ رہا ہے۔صنعتی ماہرین کے مطابق پاکستان کو صرف تیار شدہ برقی گاڑیاں درآمد کرنے کے بجائے ایک مکمل صنعتی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں بیٹری پیک، چارجنگ سسٹمز، کنٹرولرز اور متعلقہ پرزہ جات کی تیاری شامل ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی مہارت، ٹیسٹنگ سہولیات اور حفاظتی معیار کے بغیر اس شعبے میں پائیدار ترقی ممکن نہیں۔
راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے ایک آٹو پارٹس ماہر کے مطابق پاکستان کی موجودہ انجینئرنگ صلاحیتیں بیٹری کیسنگ، کنیکٹرز اور ہلکی برقی گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری کے لیے بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ تاہم ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بیٹری اسمبلنگ اور بیٹری مینجمنٹ سسٹمز پر توجہ دینا زیادہ عملی ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کی وسیع صنعتی صلاحیت پاکستان کے لیے سیکھنے کے عمل کو تیز کر سکتی ہے، تاہم سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے مستقل پالیسی، واضح ٹیرف ڈھانچہ اور مقامی ٹیسٹنگ نظام انتہائی ضروری ہیں۔صنعتی پالیسی کے مسودے کے مطابق پاکستان کے پاس پہلے سے ٹریکشن موٹرز، برقی آلات، معاون پرزہ جات اور آئی ٹی و آئی او ٹی ٹیکنالوجی کی ایک محدود مگر موجود صنعتی بنیاد موجود ہے جسے نئی توانائی والی گاڑیوں کے شعبے کی طرف منتقل کیا جا سکتا ہے۔مجموعی طور پر ماہرین کے مطابق چین کی بیٹری صنعت میں توسیع پاکستان کے لیے صرف عالمی توانائی تبدیلی نہیں بلکہ صنعتی ترقی، ایندھن کی بچت، برآمدی مواقع اور روزگار کے نئے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک