i آئی این پی ویلتھ پی کے

یورپ اور چین کی منڈیوں تک رسائی سے پاکستانی مچھلی کی برآمدات میں نئی جان پڑ گئی،ویلتھ پاکستانتازترین

June 19, 2026

پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے کو بین الاقوامی منڈیوں میں نئی رفتار مل رہی ہے۔ یورپی ممالک کو مچھلی کی برآمدات کی بحالی اور چین میں تجارتی مواقع کے پھیلا نے ملکی سمندری مصنوعات کی برآمدات کے امکانات روشن کر دیے ہیں۔پاکستان اقتصادی جائزہ 26-2025 کے مطابق سمندری خوراک کی صنعت میں ہونے والی متعدد پیش رفتوں نے برآمدی امکانات کو بہتر بنایا ہے۔ یہ شعبہ نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ ہے بلکہ ساحلی علاقوں میں لاکھوں افراد کے روزگار اور معاش کا بھی اہم وسیلہ ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی سمندری مصنوعات کی برآمدات کو بین الاقوامی معیار اور غذائی تحفظ کے ضابطوں پر بہتر عملدرآمد سے فائدہ پہنچا ہیجس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔اقتصادی جائزے میں یورپی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے۔ یورپی ممالک کو برآمدات کی بحالی کے بعد چار پاکستانی کمپنیوں نے مچھلی، جھینگے کی کھیپیں روانہ کیں جنہوں نے یورپی سرحدوں پر لیبارٹری جانچ کے تمام مراحل سو فیصد کامیابی کے ساتھ مکمل کیے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی منڈی تک رسائی برقرار رکھنے کے لیے سخت غذائی تحفظ کے تقاضوں پر مکمل عمل ضروری ہے۔

دوسری جانب پاکستان چین کی منڈی میں بھی اپنی موجودگی کو وسعت دے رہا ہے۔ اقتصادی جائزے کے مطابق چین کے محکمہ کسٹمز میں پاکستان کے 174 مچھلی پراسیسنگ کارخانوں کا اندراج کیا گیا ہے جس سے زیادہ پاکستانی برآمد کنندگان کو چینی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔رپورٹ کے مطابق منظور شدہ کارخانوں کی تعداد میں اضافے سے برآمدی صلاحیت بڑھے گی اور دونوں ممالک کے درمیان سمندری مصنوعات کی تجارت مزید فروغ پائے گی۔چین، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور جاپان پاکستان سے مچھلی اور سمندری مصنوعات خریدنے والے اہم ممالک میں شامل ہیں۔اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ منڈیوں تک بہتر رسائی ماہی گیری کے شعبے کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ شعبہ غذائی تحفظ، روزگار اور قدرتی وسائل کے پائیدار استعمال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ماہی گیری، مچھلی کی پراسیسنگ، نقل و حمل، کولڈ سٹوریج اور برآمدی سرگرمیاں مجموعی طور پر اس شعبے سے وابستہ ہزاروں خاندانوں کے لیے آمدنی کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق حکومت مختلف اقدامات کے ذریعے اس شعبے کی ترقی اور برآمدات میں اضافے پر توجہ دے رہی ہے جن میں جدید ماہی گیری کے طریقوں کا فروغ، قدر میں اضافہ شدہ مصنوعات کی تیاری، فی کس مچھلی کے استعمال میں اضافہ، ماہی گیروں کے معاشی حالات کی بہتری اور 2018 کی گہرے سمندر میں ماہی گیری کی پالیسی کا جائزہ شامل ہے۔

اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ برآمدی تصدیقی نظام کو مزید مضبوط بنانے سے پاکستانی سمندری مصنوعات کی عالمی ساکھ بہتر ہوگی اور برآمدی کھیپوں کے مسترد ہونے کے خطرات کم ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر سمندری خوراک کی بڑھتی ہوئی طلب نے پاکستان کی مچھلی اور سمندری مصنوعات کی برآمدات کو سہارا دیا ہے۔مالی سال 2026 کے جولائی تا مارچ عرصے کے دوران پاکستان نے ایک لاکھ 99 ہزار 900 میٹرک ٹن مچھلی اور سمندری مصنوعات برآمد کیں جن سے 40 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ ان میں یورپی ممالک کو ایک ہزار 970 میٹرک ٹن برآمدات کی گئیں جن کی مالیت 91 لاکھ ڈالر رہی جبکہ دیگر ممالک کو ایک لاکھ 98 ہزار میٹرک ٹن مصنوعات برآمد کی گئیں جن سے 39 کروڑ 60 لاکھ ڈالر حاصل ہوئے۔اقتصادی جائزے کے مطابق پاکستان کا طویل ساحلی علاقہ اور وسیع سمندری وسائل ماہی گیری اور برآمدات میں مزید اضافے کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کولڈ سٹوریج، پراسیسنگ سہولتوں اور قدر میں اضافہ شدہ سمندری مصنوعات میں مزید سرمایہ کاری سے مستقبل میں برآمدی آمدن میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔وزارتِ خزانہ کے مطابق برآمدات میں تنوع پیدا کرنا حکومت کا اہم معاشی ہدف ہے اور ماہی گیری کا شعبہ اضافی زرمبادلہ کمانے کے ساتھ ساحلی علاقوں کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔اقتصادی جائزے میں زور دیا گیا ہے کہ بین الاقوامی معیار پر مسلسل عملدرآمد ہی اعلی عالمی منڈیوں تک رسائی برقرار رکھنے اور پاکستانی سمندری مصنوعات کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنانے کی ضمانت ہے۔ یورپی منڈیوں میں دوبارہ رسائی، چین میں 174 پراسیسنگ یونٹس کی منظوری، معیار میں بہتری اور 40 کروڑ 51 لاکھ ڈالر کی برآمدی آمدن کے ساتھ پاکستان کا ماہی گیری کا شعبہ عالمی تجارت میں اپنا حصہ بڑھانے کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک