پاکستان میں خوردنی تیل کی مقامی پیداوار مجموعی ضرورت کا صرف 10 فیصد پورا کر پا رہی ہے جس کے باعث ملک بدستور درآمدی خوردنی تیل اور تیل دار اجناس پر بھاری انحصار کر رہا ہے۔ یہ انکشاف اقتصادی جائزہ 2025-26 میں کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق خوردنی تیل ملک کی سب سے بڑی غذائی درآمدات میں شامل ہے جس سے درآمدی بل اور زرمبادلہ کے ذخائر پر نمایاں دبا پڑتا ہے۔ مقامی پیداوار طلب کا صرف ایک محدود حصہ پورا کرتی ہے جبکہ باقی ضرورت بیرون ملک سے درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔اقتصادی جائزے کے مطابق جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران ملک میں خوردنی تیل کی دستیابی 41 لاکھ 70 ہزار ٹن رہی جبکہ پورے سال کے لیے یہ مقدار 53 لاکھ 60 ہزار ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ اس میں مقامی پیداوار کا حصہ تقریبا 10 فیصد ہوگا جبکہ باقی 90 فیصد ضرورت درآمدی خوردنی تیل اور تیل دار اجناس سے پوری کی جائے گی۔رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے درآمدی اعدادوشمار کی بنیاد پر خوردنی تیل کا سالانہ درآمدی بل تقریبا 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ تجارتی خسارے اور غذائی تحفظ پر اس کے اثرات کے باعث درآمدی انحصار میں کمی ایک اہم قومی ترجیح بن چکی ہے۔
ملک کی آبادی تقریبا 25 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ چکی ہے جس کے نتیجے میں کھانے پکانے کے تیل اور دیگر غذائی اشیا کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سال خوردنی تیل کی درآمدات زرمبادلہ کا بڑا حصہ استعمال کرتی ہیں اسی لیے اس شعبے کو زرعی پالیسی میں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔اس مقصد کے لیے محکمہ تیل دار اجناس نے خوردنی تیل کی مقامی پیداوار بڑھا کر درآمدات میں کمی لانے کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کپاس کے بیج، سرسوں، توریا، سورج مکھی اور کینولا جیسی اہم تیل دار فصلوں کی پیداوار میں اضافے پر توجہ دی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق مقامی سطح پر تیل دار اجناس کی پیداوار بڑھانے سے نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافے کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ اور زیرِ کاشت رقبے کی توسیع ناگزیر قرار دی گئی ہے۔اقتصادی جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پاکستان کے موسمی اور زرعی حالات ملک کے مختلف علاقوں میں تیل دار فصلوں کی پیداوار بڑھانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔منصوبے کے تحت قلیل مدت میں خوردنی تیل میں خود کفالت کی شرح 27 فیصد، درمیانی مدت میں 40 فیصد اور طویل مدت میں 70 فیصد تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق مقامی پیداوار میں اضافہ غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھا کے اثرات کم کرنے اور ملکی معیشت کے بیرونی شعبے کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتیں موسمی حالات، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور رسد میں رکاوٹوں کے باعث اکثر شدید اتار چڑھا کا شکار رہتی ہیں۔ پاکستان کا درآمدات پر زیادہ انحصار ملک کو انہی خطرات سے دوچار کرتا ہے اور عالمی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں مہنگائی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق تیل دار فصلوں کے فروغ کی پالیسی زرعی پیداوار میں بہتری، درآمدی انحصار میں کمی اور زرعی شعبے میں قدر میں اضافے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔اقتصادی جائزے میں زور دیا گیا ہے کہ زیادہ خود کفالت کے حصول کے لیے زرعی تحقیق، معیاری بیجوں کی تیاری، کاشتکاروں کی تربیت اور مثر منڈی معاونت کے نظام میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔رپورٹ کے مطابق جب تک ملک کی تقریبا 90 فیصد خوردنی تیل کی ضروریات درآمدات سے پوری ہوتی رہیں گی، پاکستان کو غذائی تحفظ اور تجارتی توازن کے حوالے سے سنگین چیلنجز کا سامنا رہے گا، اگرچہ مقامی پیداوار بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک