قومی ادارہ بحالی طب نے یکم جولائی 2025 سے 15 اپریل 2026 تک تقریبا ایک لاکھ 60 ہزار بیرونی مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے پر 47 کروڑ 18 لاکھ 47 ہزار روپے خرچ کیے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق جسمانی بحالی اور ہڈیوں و جوڑوں کے امراض کے شعبے سب سے زیادہ مصروف رہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے لیے ادارے کو 64 کروڑ 18 لاکھ 79 ہزار روپے مختص کیے گئے تھے۔ بعد ازاں 8 کروڑ 92 لاکھ 16 ہزار روپے کی اضافی گرانٹ بھی فراہم کی گئی جبکہ کفایت شعاری اقدامات کے تحت ایک کروڑ 74 لاکھ 78 ہزار روپے واپس کیے گئے جس کے بعد سالانہ بجٹ 71 کروڑ 36 لاکھ 17 ہزار روپے تک پہنچ گیا۔رپورٹ کے مطابق بحالی طبی خدمات صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی اہمیت بھی رکھتی ہیں۔ حادثات، معذوری، جراحی یا طویل مدتی جسمانی بیماریوں سے صحت یاب ہونے والے افراد کے لیے جسمانی بحالی، ہڈیوں کے علاج، گویائی کی بحالی، مصنوعی اعضا اور تشخیصی سہولیات تک رسائی ان کی معمول کی زندگی، تعلیم اور روزگار میں واپسی کے لیے نہایت اہم ہے۔
قومی ادارہ بحالی طب وزارت قومی صحت کے انتظامی دائرہ کار میں کام کرتا ہے اور ملک میں اعلی سطح کی سرکاری بحالی طبی سہولت فراہم کرنے والا ادارہ ہے۔ ادارے کی ذمہ داریوں میں معذور افراد کے لیے تشخیصی، طبی، جراحی اور بحالی خدمات کے ساتھ نگہداشت کرنے والوں کی معاونت، عملے کی تربیت اور مقامی تنظیموں کے ساتھ روابط شامل ہیں۔اعدادوشمار کے مطابق جسمانی بحالی کے شعبے میں سب سے زیادہ 34 ہزار 203 مریض آئے جبکہ ہڈیوں اور جوڑوں کے شعبے میں 32 ہزار 680 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ یہ دونوں شعبے ادارے کے مجموعی کام کا بڑا حصہ رہے جس سے نقل و حرکت کی بحالی، چوٹوں سے صحت یابی اور جسمانی افعال کی بحالی کی بڑھتی ہوئی ضرورت ظاہر ہوتی ہے۔بچوں اور بحالی سے متعلق دیگر خدمات میں بھی مریضوں کی بڑی تعداد دیکھی گئی۔ بچوں کے امراض کے شعبے میں 15 ہزار 525، گویائی کی بحالی کے شعبے میں 12 ہزار 615 اور بچوں کی جراحی کے شعبے میں 9 ہزار 678 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ نفسیات کے شعبے میں 9 ہزار 845، کان، ناک اور گلے کے شعبے میں 9 ہزار 224 جبکہ ذہنی امراض کے شعبے میں 7 ہزار 745 مریضوں نے رجوع کیا۔
دیگر شعبوں میں آنکھوں کے امراض کے 4 ہزار 794، سماعت کے مسائل کے 3 ہزار 808، دندان سازی کے 3 ہزار 216، زخموں کی مرہم پٹی کے 2 ہزار 847، پیشاب کے امراض کے 2 ہزار 148 اور جلدی امراض کے ایک ہزار 442 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ادارے میں اس عرصے کے دوران 991 مریض داخل بھی ہوئے جن میں 424 خصوصی بحالی یونٹ، 192 طبی نگہداشت یونٹ، 236 جنرل وارڈ اور 139 نجی وارڈ میں داخل کیے گئے۔تشخیصی خدمات بھی ادارے کی سرگرمیوں کا اہم حصہ رہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1 لاکھ ایک ہزار 524 تجربہ گاہی معائنے، 680 سی ٹی اسکین، ایک ہزار 959 الٹراسانڈ اور 15 ہزار 538 ایکسرے کیے گئے۔۔مصنوعی اعضا مرکز میں 3 ہزار 611 افراد کو خدمات فراہم کی گئیں جو مصنوعی اعضا اور معاون آلات کی مسلسل ضرورت کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی سہولیات معذور افراد کی خودمختاری بڑھانے، دوسروں پر انحصار کم کرنے اور انہیں تعلیم، روزگار اور سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔رپورٹ کے مطابق جسمانی بحالی، ہڈیوں کے امراض، بچوں کے علاج، گویائی کی بحالی اور معاون طبی آلات کی فراہمی وہ شعبے رہے جن پر سب سے زیادہ دبا رہا جبکہ سرکاری بحالی مراکز بچوں، معذور افراد اور مختلف بیماریوں یا جراحی کے بعد بحالی کے محتاج مریضوں کی وسیع تعداد کو خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک