i آئی این پی ویلتھ پی کے

کراچی یلو لائن منصوبے کی لاگت 62 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی، بڑے پیمانے پر توسیع اور جدید سہولیات کی منظوری،ویلتھ پاکستانتازترین

June 22, 2026

کراچی کی تیز رفتار راہداری یلو لائن منصوبے کی لاگت میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے اسے 62 کروڑ ڈالر تک بڑھا دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ منصوبے کے ڈیزائن میں بڑی تبدیلیوں، تعمیراتی اخراجات میں اضافے اور ماحول دوست سفری سہولیات کی شمولیت کے باعث کیا گیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق منصوبے کے نظرثانی شدہ ترقیاتی خاکے کی منظوری قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی نے 2 فروری 2026 کو دی۔یلو لائن منصوبہ ابتدا میں اکتوبر 2019 میں کراچی نقل و حمل منصوبے کے تحت منظور کیا گیا تھا جس کی لاگت 43 کروڑ 89 لاکھ ڈالر (61 ارب 43 کروڑ روپے) رکھی گئی تھی۔ تاہم منصوبے کے دائرہ کار اور ضروریات کا ازسرنو جائزہ لینے کے بعد 18 کروڑ 11 لاکھ ڈالر (112 ارب 15 کروڑ روپے) کا اضافہ منظور کیا گیا جس کے بعد مجموعی لاگت تقریبا 62 کروڑ ڈالر (173 ارب 60 کروڑ روپے) تک پہنچ گئی۔منصوبے کی مالی معاونت بدستور عالمی بینک، حکومت سندھ اور نجی شعبے کے اشتراک سے کی جائے گی۔ عالمی بینک کا حصہ 38 کروڑ 19 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 53 کروڑ 72 لاکھ ڈالر ہو گیا ہے جبکہ حکومت سندھ کی شراکت ایک کروڑ 94 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 3 کروڑ 75 لاکھ ڈالر اور نجی شعبے کا حصہ 3 کروڑ 75 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 4 کروڑ 53 لاکھ ڈالر کر دیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں تعمیرات اور بنیادی ڈھانچے کے اخراجات میں نمایاں اضافے کے باعث لاگت پر نظرثانی ناگزیر ہو گئی تھی۔ نئی منصوبہ بندی میں کئی ایسی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں جن کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، موسمیاتی اثرات سے تحفظ اور مسافروں کو زیادہ سہولت فراہم کرنا ہے۔منصوبے میں سب سے اہم تبدیلی ڈیزل سے چلنے والی بسوں کی جگہ مکمل برقی بسوں کا استعمال ہے جس سے فضائی آلودگی اور کاربن کے اخراج میں کمی آئے گی اور کراچی میں ماحول دوست عوامی نقل و حمل کو فروغ ملے گا۔ اس مقصد کے لیے برقی بسوں کی چارجنگ کے مراکز اور متعلقہ سہولیات بھی قائم کی جائیں گی۔نظرثانی شدہ منصوبے میں برقی بسوں کے لیے اضافی پارکنگ کی تعمیر بھی شامل ہے۔ علاوہ ازیں جام صادق پل کے متوازی ایک نیا پل تعمیر کیا جائے گا جبکہ سن سیٹ بلیوارڈ پر دائیں جانب مڑنے کے لیے ایک بالائی گزرگاہ بھی بنائی جائے گی تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر ہو سکے۔کورنگی کے علاقے میں چار زیرزمین راستوں کو بالائی گزرگاہوں میں تبدیل کرنے اور طارق روڈ چوراہے پر نئی بالائی گزرگاہ تعمیر کرنے کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

حکام کے مطابق ان اقدامات سے ٹریفک کا دبا کم ہوگا اور شہریوں کو بہتر سفری سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں صنعتی فضلے کے لیے علیحدہ نکاسی آب کا نظام، موجودہ نکاسی آب کے ڈھانچے کی بحالی، بس اسٹاپس اور فٹ پاتھوں کی تعمیر اور کورنگی روڈ کی مکمل ازسرنو مرمت بھی شامل کی گئی ہے۔پائیدار توانائی کے اہداف کے تحت منصوبے کے تمام اسٹیشنوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب کیے جائیں گے۔ نظرثانی شدہ تخمینوں میں سندھ سیلز ٹیکس، تعمیراتی شیڈول میں تبدیلیوں اور مارکیٹ نرخوں میں اضافے کو بھی شامل کیا گیا ہے۔دستاویزات کے مطابق اگرچہ منصوبے کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم اضافی سرمایہ کاری کے نتیجے میں کراچی کو ایک جدید، مثر اور ماحول دوست عوامی سفری نظام میسر آئے گا جو شہر کی بڑھتی ہوئی سفری ضروریات پوری کرنے کے ساتھ طویل مدت تک قابلِ اعتماد خدمات فراہم کرے گا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک