i آئی این پی ویلتھ پی کے

مجوزہ انشورنس بل 2026: غیر ملکی کمپنیوں اور ڈیجیٹل بیمہ اداروں کو پاکستان میں شاخیں کھولنے کی تجویز،ویلتھ پاکستانتازترین

June 18, 2026

حکومت نے انشورنس بل 2026 کے ذریعے ملک کے بیمہ شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت غیر ملکی بیمہ اور دوبارہ بیمہ کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان میں شاخیں قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل اور چھوٹے پیمانے کے بیمہ اداروں کو بھی قانونی حیثیت دی جائے گی۔ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویز کے مطابق یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد موجودہ بیمہ نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے، جو تاحال سن 2000 کے بیمہ آرڈیننس کے تحت چل رہا ہے۔دستاویز میں موجودہ قانونی ڈھانچے کی کئی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں محدود مسابقت، بین الاقوامی نگرانی کے معیارات سے عدم مطابقت، جدت اور ڈیجیٹلائزیشن کی راہ میں رکاوٹیں، نگران اداروں کے محدود اختیارات اور انتظامی کمزوریاں شامل ہیں۔مجوزہ بل کے تحت غیر ملکی بیمہ اور دوبارہ بیمہ کرنے والی کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی شاخیں کھولنے کی اجازت دی جائے گی جس سے شعبے میں نئی سرمایہ کاری اور مسابقت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔قانون میں دوبارہ بیمہ کے شعبے میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں جن کے تحت وفاقی حکومت کی جانب سے نامزد اداروں کو ترجیحی حق دیا جا سکے گا۔

اس اقدام کا مقصد تحفظ یافتہ ڈھانچے کو ختم کرکے زیادہ مسابقتی ماحول پیدا کرنا ہے۔بل کے مطابق سرکاری املاک کے بیمہ کے شعبے کو بھی نجی کمپنیوں کے لیے کھولنے کی تجویز دی گئی ہے۔ موجودہ نظام میں قومی بیمہ کمپنی کو سرکاری املاک کے بیمہ کا خصوصی حق حاصل ہے۔صارفین کے لیے اہم ترین تجاویز میں کم لاگت بیمہ فراہم کرنے والے خصوصی اداروں اور صرف ڈیجیٹل ذرائع سے خدمات دینے والی کمپنیوں کو الگ قانونی حیثیت دینا شامل ہے۔ اس سے کم آمدنی والے خاندانوں، چھوٹے کاروباروں اور دور دراز علاقوں تک بیمہ خدمات کی رسائی بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔مجوزہ قانون کے تحت صحت بیمہ کے انتظامی معاون اداروں، بیمہ بروکروں اور دیگر کے لیے بھی باقاعدہ قانونی فریم ورک متعارف کرایا جائے گا۔ اسی طرح زندگی اور عمومی بیمہ فراہم کرنے والی کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کی بھی اجازت دی جائے گی تاکہ کم لاگت بیمہ منصوبوں کو فروغ دیا جا سکے۔کاروباری سہولت کے لیے متعدد اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں جن میں مستقل لائسنسوں کا اجرا، سالانہ تجدید کی شرط کا خاتمہ اور بعض شعبوں میں لائسنس کی پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

بل میں ویب پر مبنی بیمہ پلیٹ فارمز، ٹیکنالوجی کی مدد سے خدمات انجام دینے والے سروے اداروں اور دیگر جدید کاروباری ماڈلز کے لیے بھی قانونی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ڈیجیٹل نظام اور معلومات کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے بیمہ معلوماتی ذخیرے اور معلومات کے اشتراک کا نیا ضابطہ جاتی نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔پالیسی ہولڈرز کے تحفظ کو مرکزی حیثیت دیتے ہوئے بل میں تجویز کیا گیا ہے کہ بیمہ کمپنیاں دعوں کی ادائیگی میں بلا تاخیر کارروائی کی پابند ہوں گی جبکہ نگران ادارہ ادائیگی کے لیے وقت کی حدود اور دیگر شرائط مقرر کر سکے گا۔ بیمہ محتسب کے اختیارات کو سرکاری بیمہ اداروں تک بھی توسیع دینے کی تجویز ہے۔صارفین کے تحفظ کے لیے دیگر اقدامات میں تنازعات کے حل کے وسیع اختیارات، انتظامی اخراجات کی حد مقرر کرنا، فوائد کی واضح وضاحت، غلط فروخت کی صورت میں کمیشن کی واپسی اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے اندرونی سروے پر پابندی شامل ہیں۔مالی استحکام اور نگرانی کے شعبے میں بھی اصلاحات تجویز کی گئی ہیں

جن میں خطرات کی بنیاد پر سرمایہ کاری کا نظام، مالی کمزوری کی صورت میں اصلاحی منصوبے، بڑے حصص داروں کے لیے اہلیت کے معیار، مجموعی مالی نگرانی اور بیمہ کمپنیوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ضمانتی فنڈ کا قیام شامل ہے۔مجوزہ قانون نگران اداروں کے اختیارات میں بھی اضافہ کرے گا جن میں لائسنس منسوخ کرنے، معلومات طلب کرنے، معائنہ کرنے اور ہدایات و ضابطے جاری کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔دستاویز کے مطابق اصلاحاتی عمل کا آغاز جون 2024 میں ہوا تھا۔ جنوری 2025 میں عوامی آرا طلب کی گئیں، بعد ازاں متعلقہ فریقوں کے درمیان اتفاقِ رائے پیدا کیا گیا اور منظوری کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد بل پارلیمان میں پیش کیا گیا۔ماہرین کے مطابق مجوزہ انشورنس بل پاکستان کے بیمہ شعبے کو محدود اور سخت ضابطہ بندی والے نظام سے نکال کر مسابقت، ڈیجیٹل سہولت، مثر نگرانی اور صارفین کے بہتر تحفظ کی جانب لے جانے کی کوشش ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا یہ اصلاحات نئی سرمایہ کاری، بیمہ کی وسیع تر رسائی اور عوامی اعتماد میں اضافہ کر پاتی ہیں یا نہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک