پاکستان کی تقریبا دو تہائی آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جبکہ 15 سے 29 سال کے نوجوانوں کی تعداد تقریبا 6 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے جو ملک کے لیے ترقی کے وسیع امکانات کے ساتھ ساتھ پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج بھی ہے۔پاکستان اقتصادی جائزہ 26-2025 کے مطابق ملک کی 66.03 فیصد آبادی کی عمر 30 برس سے کم ہے۔ ان میں 15 سے 29 سال عمر کے افراد کی تعداد 6 کروڑ 69 لاکھ 60 ہزار ہے جو مجموعی آبادی کا 26.56 فیصد بنتی ہے۔جائزے میں کہا گیا ہے کہ نوجوان آبادی کی یہ بڑی تعداد پاکستان کو ایک منفرد مقام فراہم کرتی ہے کیونکہ یہی طبقہ مستقبل میں افرادی قوت، کاروباری سرگرمیوں اور کھپت کے ذریعے معاشی ترقی کو رفتار دے سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کی متوقع آبادی 25 کروڑ 20 لاکھ 90 ہزار رہی جبکہ آبادی میں اضافے کی شرح 2.07 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اقتصادی جائزے میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر تعلیم، صحت، ہنرمندی کے فروغ اور روزگار کی فراہمی پر خاطر خواہ توجہ دی جائے تو نوجوان آبادی ملک کے لیے ایک قیمتی معاشی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان عملی زندگی میں داخل ہو رہے ہیں جس کے باعث روزگار کے شعبے پر دبا بڑھ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملک کی انسانی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے روزگار کے مواقع میں توسیع ناگزیر ہے۔تازہ ترین قومی محنت کش سروے 25-2024 کے مطابق ملک میں برسرِ روزگار افراد کی تعداد 7 کروڑ 72 لاکھ تک پہنچ گئی جبکہ افرادی قوت میں شمولیت کی شرح 46.3 فیصد رہی۔ حکومت نوجوانوں کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے فنی تربیت، تکنیکی تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں کے پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ معیشت کے ڈیجیٹل شعبے نے نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران معلوماتی و مواصلاتی خدمات سے حاصل ہونے والی برآمدی آمدن 19.7 فیصد اضافے کے ساتھ 3.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ آزادانہ آن لائن خدمات اور انٹرنیٹ کے ذریعے کام کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔اقتصادی جائزے کے مطابق ڈیجی اسکلز پروگرام کے تحت جولائی تا مارچ مالی سال 2026 کے دوران 51 لاکھ 40 ہزار سے زائد تربیتیں مکمل کرائی گئیں۔رپورٹ میں تعلیم کو نوجوان آبادی کو معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
ملک میں شرح خواندگی 23-2022 کے 61 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 63 فیصد ہو گئی جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم کرنے اور تعلیم تک رسائی بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث تعلیمی اداروں، جامعات، صحت کی سہولتوں، رہائش اور دیگر عوامی خدمات پر دبا میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔اقتصادی جائزے کے مطابق بڑھتی ہوئی افرادی قوت کو جذب کرنے کے لیے پائیدار معاشی ترقی انتہائی ضروری ہے۔ مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی معیشت میں 3.70 فیصد نمو ریکارڈ کی گئی جس میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں نے مثبت کردار ادا کیا۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ نوجوان اختراع، کاروباری سرگرمیوں اور پیداواری صلاحیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ معلوماتی ٹیکنالوجی، آن لائن تجارت، جدید خدمات اور جدید زراعت جیسے ابھرتے شعبوں میں ان کی شمولیت مستقبل کی معاشی ترقی کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔اقتصادی جائزے کے مطابق آبادی کے یہ رجحانات آئندہ برسوں میں تعلیم، روزگار، شہری ترقی اور سماجی تحفظ سمیت مختلف شعبوں میں پالیسی سازی پر اثر انداز ہوتے رہیں گے۔ 15 سے 29 سال عمر کے تقریبا 6 کروڑ 70 لاکھ نوجوانوں اور 30 سال سے کم عمر 66 فیصد سے زائد آبادی کے ساتھ پاکستان کے پاس آنے والی دہائیوں میں معاشی اور سماجی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک