i آئی این پی ویلتھ پی کے

پاکستان کی گدھے کے گوشت اور کھالوں کی چین کو برآمدات بڑھانے کی تیاری، نیا برآمدی شعبہ ابھرنے لگا،ویلتھ پاکستانتازترین

June 19, 2026

پاکستان نے چین کو گدھے کے گوشت، کھالوں اور متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے ایک نئی منڈی میں داخل ہونے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حکومت نے اس شعبے کو برآمدات میں تنوع پیدا کرنے اور دیہی آبادی کی آمدنی بڑھانے کا ایک ممکنہ ذریعہ قرار دیا ہے۔پاکستان اقتصادی جائزہ 26-2025 میں گدھے کے گوشت اور دیگر مصنوعات کے لیے نئی برآمدی راہداری کے عنوان سے ایک خصوصی باب شامل کیا گیا ہے جو اس شعبے میں حکومتی دلچسپی اور چینی منڈی میں بڑھتی ہوئی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔جائزے کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان گدھے کے گوشت، کھالوں اور دیگر متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق ضابطوں پر اتفاق ہو چکا ہے۔ ان معاہدوں سے پاکستانی برآمد کنندگان کو چین کی ایک مخصوص مگر تیزی سے پھیلتی ہوئی منڈی تک رسائی حاصل ہوگی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چین میں گدھے کے گوشت، دودھ اور ای جیاو نامی ایک خاص جیلاٹینی مادے کی طلب بڑھ رہی ہے جسے وہاں غذائی اور طبی فوائد کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اس ابھرتی ہوئی تجارت کو سہارا دینے کے لیے حکام نے اضافی پراسیسنگ صلاحیت کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اقتصادی جائزے کے مطابق کمپنی شہزاد اینڈ شا کو گوادر آزاد تجارتی زون میں گدھوں کا ذبح خانہ قائم کرنے کا اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔اس نئی منظوری کے بعد اس شعبے میں کام کرنے والی لائسنس یافتہ کمپنیوں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اس سے قبل ہانگینگ ٹریڈ کو بھی اسی نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت دی جا چکی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کی برآمدات کو روایتی مصنوعات جیسے کپڑے، چاول اور چمڑے کی اشیا سے آگے بڑھا کر نئے شعبوں تک وسعت دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ مویشی بانی دیہی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے۔ یہ شعبہ زراعت میں 62.45 فیصد اور مجموعی قومی پیداوار میں 14.64 فیصد حصہ رکھتا ہے جبکہ مالی سال 26-2025 کے دوران اس کی شرح نمو 3.75 فیصد رہی۔رپورٹ کے مطابق مویشیوں سے وابستہ نئی برآمدی منڈیاں کسانوں اور جانور پالنے والوں کے لیے آمدنی کے اضافی ذرائع پیدا کر سکتی ہیں جو خصوصا دیہی علاقوں میں ہیں۔

اقتصادی جائزے کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 میں پاکستان میں گدھوں کی تعداد 62 لاکھ تک پہنچ گئی جو گزشتہ مالی سال میں 60 لاکھ اور اس سے پہلے 59 لاکھ تھی۔ اس اضافے کو ابھرتی ہوئی برآمدی صنعت کے لیے ایک ممکنہ سپلائی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مویشیوں سے متعلق قدر میں اضافہ شدہ برآمدات نہ صرف قیمتی زرمبادلہ کما سکتی ہیں بلکہ جانوروں کی افزائش اور پراسیسنگ کی سہولتوں میں سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی کریں گی۔اقتصادی جائزے کے مطابق چین پاکستان کی گوشت اور مویشیوں سے متعلق مصنوعات کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈیوں میں شامل ہے۔ زراعت اور مویشی بانی سے متعلق نئی برآمدی راہداریوں کے کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ محدود برآمدی اشیا پر انحصار کم کرنا اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھا کے اثرات سے بچا پاکستان کے اہم معاشی اہداف میں شامل ہے۔ اسی تناظر میں گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمدات کو ایک مخصوص مگر امید افزا شعبہ قرار دیا گیا ہے جو نئے کاروباری مواقع، سرمایہ کاری اور مستقبل میں برآمدات کے اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک