کراچی کے علاقے منگھوپیر میں آٹھ بہنوں کے اکلوتے بھائی اور حافظِ قرآن نوجوان روشم حسین کے قتل کے خلاف مقتول کی میت کے ساتھ پولیس تھانے کے سامنے احتجاجی دھرنا مسلسل آٹھویں روز بھی جاری رہا۔مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ میں نامعلوم مقام پر اپنی بڑی بیٹی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دوں گا۔منگھوپیر کے مہران سٹی بلاک چھ میں پیر اور منگل کی درمیانی شب مسلح ڈاکو ڈکیتی کی نیت سے گھر میں داخل ہوئے اور فائرنگ کر کے میٹرک کے پوزیشن ہولڈر اور خاندان کے واحد چراغ روشم خان کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔پولیس نے قتل، اقدامِ قتل اور ڈکیتی سمیت دیگر سخت دفعات کے تحت نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے تو کر دی ہے، تاہم آٹھ روز گزرنے کے باوجود کسی بھی ملزم کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی ہے۔انصاف میں غیر معمولی تاخیر اور ملزمان کی عدم گرفتاری پر شدید دلبرداشتہ مقتول کے والد روئیداد خان نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے بیٹے کے قاتل گرفتار نہیں ہوتے، وہ بیٹے کی تدفین نہیں کریں گے۔انہوں نے اپنے گہرے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میرے بیٹے کے جسم میں کیڑے بھی پڑ جائیں تو میں نے نہیں اٹھنا، مجھے میرا قاتل دے دیں میں چلا جاں گا، میں اس قاتل کو اپنے بیٹے کی ماں کے سامنے کھڑا کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے نظامِ عدل کی سست روی اور اعلی حکام کی عدم توجہی پر انتہائی مایوسی کے عالم میں کہا کہ میں نامعلوم مقام پر اپنی بڑی بیٹی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دوں گا، وہ خودکشی کرے گی تو آپ لوگ وہ ویڈیو اعلی حکام تک پہنچا دینا، وہ اپنا انٹرویو خود دے گی اور خود ملزمان کے نام لے گی، پھر خود کو آگ لگائے گی تاکہ شاید اس طرح انصاف مل جائے، اگر یہ انصاف دیں تو بہتر ہے اور اگر نہیں دیتے تو میں یہاں دس سال بھی بیٹھ سکتا ہوں۔واقعے کے وقت گھر میں داخل ہونے والے مسلح افراد کے بارے میں اہلِ خانہ اور مقامی افراد کا دعوی ہے کہ ان میں بعض ملزمان مبینہ طور پر پولیس کی وردی میں ملبوس تھے۔قاتلوں کی گرفتاری کے لئے منگھوپیر تھانے کے سامنے بیٹھے اس سوگوار خاندان نے اپنے حامیوں اور علاقہ مکینوں کے ساتھ جمعہ کی نماز بھی احتجاجی دھرنے کے مقام پر ہی ادا کی تھی۔پولیس حکام کی جانب سے مذاکرات اور گرفتاری کی یقین دہانیوں کے باوجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہیں صرف کھوکھلی قین دہانیاں نہیں بلکہ عملی طور پر قاتلوں کی گرفتاری چاہیے۔علاقہ مکین بھی اس ناانصافی اور بدامنی کے خلاف دھرنے میں شامل ہیں اور معصوم حافظِ قرآن کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی