جڑواں شہروں اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور میں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا، کئی علاقوں میں فیڈرز ٹرپ ہونے سے بجلی کی سپلائی معطل ہوگئی،راولپنڈی میں نالہ لئی بپھرنے کے بعد تھم گیا، انتظامیہ نے شہریوں کو نالہ لئی کے اطراف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔تفصیل کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں ہونے والی مسلسل موسلادھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی جس پر گوالمنڈی کے مقام پر الرٹ جاری کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اسلام آباد میں 52 ملی میٹر جبکہ راولپنڈی میں 55 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد نشیبی علاقے زیر آب آ گئے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔بارش کے باعث نالہ لئی میں گوالمنڈی کے مقام پر پانی کی سطح ساڑھے 9 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے الرٹ جاری کرتے ہوئے صورتحال کی مسلسل نگرانی شروع کر دی ۔واسا، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ سمیت دیگر متعلقہ ادارے فوری طور پر متحرک ہوگئے اور نشیبی علاقوں سے پانی کی نکاسی کا عمل تیز کر دیا۔بعد ازاں بارش کی شدت میں کمی آنے پر نالہ لئی میں پانی کی سطح بھی کم ہونا شروع ہوگئی۔ حکام کے مطابق گوالمنڈی اور کٹاریاں کے مقامات پر پانی کی سطح ساڑھے 9 فٹ سے کم ہو کر تقریبا 8 فٹ رہ گئی۔تاہم انتظامیہ نے شہریوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری طور پر نالہ لئی کے اطراف جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ادھر پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں گڑھی شاہو، شملہ پہاڑی، لکشمی چوک، مال روڈ، سول سیکرٹریٹ، چوبرجی، سمن آباد، وحدت روڈ، شاد مان، گارڈ ٹان، کیولری، والٹن روڈ، بیدیاں روڈ، بھٹہ چوک، علی پارک میں بادل برسے۔اس کے علاوہ گلبرگ، کلمہ چوک، جیل روڈ، فیروز پور روڈ میں بھی بارش سے موسم خوشگوار ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کمزور مون سون ہواں کے ساتھ ساتھ مغربی ہوائہں کا سلسلہ بھی ملک کے شمالی علاقوں پر اثر انداز ہے جس کے باعث آ ئندہ24گھنٹوں میں بھی اسلام آباد، پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور کشمیر کے بعض مقامات پر مزید بارش ہو سکتی ہے۔دوسری جانب خیبرپختونخوا میں تیز بارش اور فلش فلڈ کے باعث مزید 9 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے جبکہ 103 گھروں کو نقصان پہنچا۔پی ڈی ایم اے کے جاری رپورٹ کے مطابق 29 جولائی سے جاری بارشوں میں اب تک ایبٹ آباد، سوات، بونیر، خیبر، چترال لوئر سمیت مختلف اضلاع میں حادثات پیش آئے جس میں اب تک 9 افراد جاں بحق ہوئے جن چار بچے ،تین خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔ جبکہ مختلف واقعات میں 7 افراد زخمی بھی ہوئے ۔تیز بارشوں اور فلش فلڈ سے اب تک 103 مکانات کو نقصان پہنا جس میں 39 مکمل تباہ ہوگئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے اور ریسکیو سمیت متعلقہ اداروں کی ٹیمیں متاثرہ علاقوں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اور نقصانات کا سروے کررہی ہیں ۔لوئر چترال میں فلیش فلڈ سے بند سڑکیں کھولنے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں، پی ڈی ایم اے، ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے آپس میں رابطے میں ہیں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ادھر دریائے سندھ میں چشمہ بیراج و جناح بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب برقرار رہا۔بارشوں کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی آمد میں پھر اضافہ ہوگیا، چشمہ بیراج و جناح بیراج میں نچلے درجے کا سیلاب آگیا، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد بڑھ کر 3 لاکھ 27 ہزار کیوسک ہو گئی، چشمہ بیراج سے پانی کا اخراج 3 لاکھ 18 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔24 گھنٹے میں چشمہ بیراج میں 40 ہزار کیوسک پانی بڑھ گیا، جناح بیراج میں بھی نچلے درجے کا سیلاب برقرار رہا، پانی کی آمد 3 لاکھ 41 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔جناح بیراج سے پانی کا اخراج 3 لاکھ 34 ہزار کیوسک ہو گیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی