i کھیل

اسلام آباد زیادہ پسند ہے ، کراچی کو یاد بھی نہیں کرتا،راشد لطیفتازترین

February 09, 2026

سابق کپتان راشد لطیف نے کہا ہے کہ وہ 22 اگست 2016 کو مستقل طور پر کراچی سے اسلام آباد منتقل ہو گئے تھے اور اب انہیں اسلام آباد زیادہ پسند ہے جبکہ وہ کراچی کو یاد بھی نہیں کرتے۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے کراچی کے مسائل پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شہر میں رہائشی اور کھیلوں کے مسائل سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کراچی کے زیادہ تر لوگ ڈی ایچ اے منتقل ہو رہے ہیں تو ملیر اور دیگر علاقوں کے رہائشی کہاں جائیں گے۔سابق کپتان نے کراچی اور لاہور میں کرکٹ کے زوال پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب یہ دونوں شہر کرکٹ کی نرسریاں کہلاتے تھے مگر اب گرائونڈز ختم کیے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ہائوسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔

راشد لطیف کے مطابق کراچی میں 30 سے 35 کرکٹ گرائونڈز چائنہ کٹنگ کی نذر ہو چکے ہیں جہاں اب رہائشی فلیٹس تعمیر ہو چکے ہیں، جس کے باعث نوجوان کھلاڑیوںکیلئے کھیل کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی صورتحال کے باعث کوچز اور سابق کھلاڑیوں کو نجی اکیڈمیز قائم کرنا پڑیں، تاہم اکیڈمیز میں محدود تعداد میں ہی کھلاڑیوں کو تربیت دی جا سکتی ہے۔انہوں نے لاہور کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ منٹو پارک ایسا مقام تھا جہاں سے پاکستان کے سات کپتان سامنے آئے، مگر اب وہاں سے سڑک گزار دی گئی ہے۔ اسی طرح کراچی کی شاہراہ فیصل پر موجود تین کرکٹ گرانڈز بھی ختم ہو چکے ہیں۔راشد لطیف نے زور دیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس بات پر تحقیق کرے کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر کراچی سے نئے کھلاڑی سامنے نہیں آ رہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی