i کھیل

گولڈن بوٹ کی دوڑ ، میسی، ایمباپے اور ایرلنگ ہالینڈ میں کانٹے کا مقابلہتازترین

June 23, 2026

فٹبال ورلڈ کپ 2026 میں گولڈن بوٹ کی دوڑ غیر معمولی حد تک سنسنی خیز ہو گئی ہے ، جہاں دنیا کے 3 بڑے فارورڈز لیونل میسی، کائلین ایمباپے اور ایرلنگ ہالینڈ میں سخ کانٹے کی ٹکر ہے ۔بی بی سی اسپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کے ابتدائی دو میچز کے بعد لیونل میسی 5 گولز کے ساتھ سرفہرست ہیں، جبکہ ایمباپے اور ہالینڈ 4، 4 گولز کے ساتھ ان کے تعاقب میں ہیں۔ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ صرف دوسری بار ہوا ہے کہ ابتدائی 2 میچز کے بعد 3 کھلاڑی 4 یا اس سے زائد گول کر چکے ہوں، اس سے قبل ایسا 1954 میں دیکھا گیا تھا۔میسی نے آسٹریا کے خلاف 2 گول کر کے نہ صرف اپنی ٹیم کو کامیابی دلائی بلکہ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے کا ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔38 سالہ میسی اب 28 میچز میں 18 گولز کے ساتھ اس فہرست میں سب سے آگے ہیں۔دوسری جانب کائلین ایمباپے نے عراق کے خلاف میچ میں 2 گول کر کے اپنی ٹیم کو فتح دلائی اور اپنے کیریئر کے 100ویں انٹرنیشنل میچ کو یادگار بنا دیا۔ وہ اب 16 گولز کے ساتھ سابق جرمن اسٹرائیکر میروسلاف کلوزے کے ریکارڈ کے برابر آ گئے ہیں اور گولڈن بوٹ کے ساتھ ساتھ مجموعی ریکارڈ پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

ناروے کے ایرلنگ ہالینڈ نے بھی شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے سینیگال کے خلاف 2 گول کیے اور اپنی ٹیم کو اگلے مرحلے تک پہنچایا۔ وہ اپنے پہلے ہی ورلڈ کپ میں مسلسل دو میچز میں 2، 2 گول کرنے والے چند کھلاڑیوں میں شامل ہو گئے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ تینوں اسٹارز نہ صرف گولڈن بوٹ بلکہ ورلڈ کپ کے مجموعی گولز کے ریکارڈ کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انگلینڈ کے ہیری کین بھی اس دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں، جنہوں نے پہلے میچ میں 2 گول کیے تھے۔اس ٹورنامنٹ میں کئی ریکارڈز ٹوٹ رہے ہیں۔ ایمباپے فرانس کے لیے سب سے زیادہ ورلڈ کپ گول کرنے والے کھلاڑی بن چکے ہیں، جبکہ ہالینڈ محض 2 میچز کے بعد ناروے کے ٹاپ اسکورر بن گئے ہیں۔ ہیری کین نے بھی انگلینڈ کے لیے گیری لائنکر کے ریکارڈ کی برابری کر لی ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق 48 ٹیموں کے نئے فارمیٹ اور اضافی میچز کی وجہ سے گولز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے ٹاپ اسٹرائیکرز کو مزید مواقع مل رہے ہیں۔گولڈن بوٹ کی یہ دوڑ اب اس سوال پر آ کر رک گئی ہے کہ آیا میسی اپنی برتری برقرار رکھ پائیں گے یا ایمباپے اور ہالینڈ انہیں پیچھے چھوڑ دیں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی