i پاکستان

سعودی عرب ہمارا دیرینہ شراکت دار،عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں،محمد اورنگزیبتازترین

February 09, 2026

وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے سعودی عرب کو پاکستان کا دیرینہ شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ العلا میں منعقدہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کی کانفرنس کے موقع پر عرب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ سعودی عرب طویل عرصے سے پاکستان کا شراکت دار رہا ہے، اور ہم مشکل اور اچھے دونوں ادوار میں ملنے والی حمایت پر بے حد شکر گزار ہیں۔ اب جبکہ ہم میکرو اکنامک استحکام حاصل کر چکے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم ترقی کیلئے بہتر پوزیشن میں ہیں۔وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ اس شراکت داری کے تحت معدنیات و کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت اور سیاحت سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ انہوں نے سعودی کمپنی وافی کی پاکستان کے ڈائون سٹریم آئل اینڈ گیس سیکٹر میں شمولیت کو فعال سعودی سرمایہ کاری کی مثال قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے کھل کر پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے خصوصا معدنیات و کان کنی، آئی ٹی، زراعت اور سیاحت کے شعبوں میں۔ ان شعبوں میں سرمایہ کاری پہلے ہی آ چکی ہے، مثلا وافی کی جانب سے ڈان سٹریم آئل اینڈ گیس اسٹیشنز میں سرمایہ کاری۔ اس وقت سرمایہ کاری کا ایک نہایت متحرک پائپ لائن موجود ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ ان شعبوں میں ترقی نجی شعبے کی سرگرمیوں سے ممکن ہو رہی ہے، جبکہ حکومت سے حکومت کے درمیان تعاون بنیادی طور پر انفراسٹرکچر کی ترقی پر مرکوز ہے۔سرمایہ کاروں کے دیرینہ خدشات، جیسے بیوروکریسی اور تاخیر، کا اعتراف کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں پاکستان نے ساختییاتی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور کاروباری ماحول بہتر بنانے کے لیے نمایاں پیش رفت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہم نے ساختیاتی اصلاحات پر سخت محنت کی ہے، مالی صورتحال اور مجموعی معاشی حالات کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔وزیرِ خزانہ نے کان کنی اور ریفائننگ کے شعبوں کو تعاون کے اہم میدان قرار دیا، جن میں ریکوڈک منصوبے سے متعلق بات چیت بھی شامل ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ گفتگو صرف کسی ایک منصوبے تک محدود نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میرے نزدیک معاملہ صرف ایک کان کا نہیں، بلکہ سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ کئی شعبوں میں بات چیت جاری رہے گی۔انہوں نے آئی ٹی کے شعبے میں تعاون میں اضافے کی طرف بھی اشارہ کیا، خصوصا مصنوعی ذہانت(اے آئی ) کے میدان میں، اور بتایا کہ کئی پاکستانی ٹیکنالوجی کمپنیاں یا تو سعودی اداروں سے بات چیت کر رہی ہیں یا مملکت میں اپنے دفاتر قائم کر چکی ہیں۔

سعودی وزیرِ معیشت و منصوبہ بندی فیصل الابراہیم کے ساتھ حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی بڑی فری لانس افرادی قوت گہرے تعاون کے وسیع مواقع فراہم کرتی ہے، بشرطیکہ مہارتوں کی ترقی طلب کے مطابق کی جائے۔انہوں نے کہا کہ میں ابھی سعودی وزیرِ معیشت و منصوبہ بندی کے ساتھ تھا، اور وہ خاص طور پر پاکستانی ٹیک ٹیلنٹ کا ذکر کر رہے تھے، اور وہ بالکل درست ہیں۔ پاکستان دنیا میں تیسری بڑی فری لانس آبادی رکھتا ہے، اور ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کی مہارتوں کو مزید بہتر، جدید اور موثر بنایا جائے۔وزیرِ خزانہ نے توانائی کے شعبے میں سعودی عرب کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کے مواقع کا بھی ذکر کیا اور دفاعی پیداوار کے شعبے میں جاری تعاون کی نشاندہی کی۔مستقبل کی حکمتِ عملی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو امداد پر انحصار کے بجائے تجارت اور سرمایہ کاری کی بنیاد پر استوار کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے وزیرِ اعظم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ ہم آئندہ اس پورے تعلق کو امداد اور تعاون سے آگے بڑھا کر تجارت اور سرمایہ کاری کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی