ماحولیاتی تبدیلی کے ماہر علی توقیر شیخ نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کے تیزی سے پگھلتے برفانی تودے ملک کے لیے طویل مدت کا سب سے بڑا ماحولیاتی خطرہ بن چکے ہیں جو مستقبل میں پانی کی فراہمی، زراعت اور توانائی کے تحفظ کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔ویلتھ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برفانی تودوں کا پگھلا پاکستان کا سب سے سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق دریائے سندھ کے بالائی علاقوں میں موجود برفانی تودے تیزی سے سکڑ رہے ہیں جس سے جنوبی ایشیا کے ایک ارب سے زائد افراد کے لیے پانی کا بنیادی ذریعہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ یہ لوگ زراعت، پینے کے پانی اور معاشی سرگرمیوں کے لیے اسی نظام پر انحصار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت برفانی پگھلا کے باعث وقتی طور پر دریاں میں پانی کا بہا بڑھ رہا ہے مگر پاکستان کے پاس اضافی پانی کو محفوظ کرنے اور مثر انداز میں استعمال کرنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دو سے تین دہائیوں میں ملک کو بڑے پیمانے پر پانی کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔علی توقیر شیخ کے مطابق برفانی پانی پر انحصار کرنے والے دریائی نظام آہستہ آہستہ خشک ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار میں کمی، بار بار خشک سالی اور اندرونِ ملک بڑے پیمانے پر نقل مکانی جیسے مسائل پیدا ہوں گے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ مستقبل میں پانی کی فراہمی میں عدم استحکام سے بڑا کوئی خطرہ پاکستان کو درپیش نہیں۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی پہلے ہی پاکستان کے غذائی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ بے ترتیب برسات، تاخیر سے بارشیں، غیر معمولی موسلا دھار بارشیں اور بارانی علاقوں میں تبدیلی فصلوں کو نقصان پہنچا رہی ہے جس سے غذائی استحکام خطرے میں پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بے وقت بارشوں اور بدلتے موسموں کے باعث فصلوں کی پیداوار متاثر ہو رہی ہے جبکہ عالمی غذائی قیمتوں میں اتار چڑھا کے مقابلے میں پاکستان کی کمزوری بڑھ رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کھاد کی بڑھتی قیمتیں، فصلوں کی غذائیت میں کمی اور کاشت کے انداز میں تبدیلی زرعی شعبے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہے، حالانکہ یہی شعبہ پاکستان کی معیشت اور زرِمبادلہ آمدن میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔توانائی کے شعبے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ملک کا پن بجلی کا نظام بھی غیر محفوظ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ برفانی پانی کی فراہمی اب قابلِ اعتماد نہیں رہی۔ ان کے مطابق اگرچہ بند تعمیر ہو سکتے ہیں لیکن ان میں مستقل پانی کی فراہمی یقینی نہیں رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کئی دہائیوں پہلے بنائے گئے بڑے آبی ذخائر کے منصوبے غیر مستقل پانی کے بہا، مٹی بھر جانے اور بخارات کے بڑھتے نقصان کے باعث کم مثر ہو سکتے ہیں۔
برفانی پگھلا کے رجحانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر برفانی تودے کی صورتحال مختلف ہے اور اس پر گرمی کی شدت اور برف باری کے اوقات کا گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق دریائے سندھ کے بالائی علاقوں میں بڑھتا درجہ حرارت پگھلا کو تیز کر رہا ہے جبکہ افغانستان میں ابتدائی گرمیوں کے موسم کے باعث دریائے کابل میں اضافی پانی آ رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ وقتی طور پر اضافی پانی فائدہ مند محسوس ہوتا ہے لیکن طویل مدت میں افغانستان کے نصف سے زیادہ برفانی تودے پہلے ہی ختم ہو چکے ہیں۔فوری اقدامات پر زور دیتے ہوئے علی توقیر شیخ نے کہا کہ پاکستان کو پانی کی کمی اور سیلابی پانی، دونوں سے مثر انداز میں نمٹنا سیکھنا ہوگا۔انہوں نے حکام پر زور دیا کہ آبی گزرگاہوں کے قریب آبادیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے، پانی کے استعمال میں بچت پیدا کی جائے، زیادہ پانی استعمال کرنے والی فصلوں جیسے چاول اور گنے کی کاشت کم کی جائے اور زیرِ زمین پانی دوبارہ جمع کرنے کے نظام کو وسعت دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ 2047 تک ملک میں دستیاب پانی نصف رہ سکتا ہے جبکہ آبادی دوگنی ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پانی کے استعمال میں تقریبا چار گنا زیادہ بہتری درکار ہوگی۔علی توقیر شیخ نے زیرِ زمین پانی کے سخت ضابطوں کا بھی مطالبہ کیا اور خبردار کیا کہ شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویلوں میں اضافہ زیرِ زمین پانی کے بے دریغ استعمال کو تیز کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی والے ٹیوب ویلوں کے ساتھ پانی بچانے والے آبپاشی نظام اور سخت نگرانی ضروری ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے زیادہ استعمال کی نگرانی، ضابطہ بندی اور قیمت مقرر کی جانی چاہیے تاکہ پانی کا پائیدار استعمال یقینی بنایا جا سکے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک