نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ نے ملک بھر میں اپنے عملی دائرہ کار کو بڑھا کر 130 اضلاع تک پھیلا دیا ہے، جس سے پاکستان کے پسماندہ اور کم انسانی ترقیاتی اشاریے والے علاقوں میں اس کی رسائی نمایاں طور پر مضبوط ہو گئی ہے۔ یہ بات ویلتھ پاکستان کو دستیاب سرکاری دستاویزات میں بتائی گئی ہے۔دستاویزات کے مطابق، این سی ایچ ڈی اس وقت 91 ضلعی دفاتر اور 37 سیٹلائٹ دفاتر کے ذریعے کام کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے دور دراز اور محروم علاقوں میں تعلیم، خواندگی اور سماجی ترقی کے پروگرام نچلی سطح تک پہنچائے جا رہے ہیں۔صوبہ وار اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارے کی توجہ خاص طور پر تاریخی طور پر پسماندہ علاقوں پر مرکوز ہے۔ بلوچستان میں 24 ضلعی دفاتر اور دو سیٹلائٹ دفاتر قائم ہیں، جبکہ خیبر پختونخوا میں 20 ضلعی دفاتر ہیں جنہیں سات سیٹلائٹ دفاتر کی معاونت حاصل ہے۔سندھ میں این سی ایچ ڈی کے 21 ضلعی دفاتر اور تین سیٹلائٹ دفاتر کام کر رہے ہیں، جبکہ پنجاب میں آبادی اور پروگراموں کی طلب کو مدنظر رکھتے ہوئے 20 ضلعی دفاتر کے ساتھ 15 سیٹلائٹ دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔
اہم اور دشوار گزار علاقوں میں بھی این سی ایچ ڈی نے اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں۔ گلگت بلتستان میں دو ضلعی دفاتر اور پانچ سیٹلائٹ دفاتر فعال ہیں، جبکہ آزاد جموں و کشمیر میں چار ضلعی دفاتر اور پانچ سیٹلائٹ دفاتر کام کر رہے ہیں۔دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ضلعی دفاتر جان بوجھ کر ان علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں انسانی ترقی کا اشاریہ کم ہے، تاکہ علاقائی تفاوت کو کم کیا جا سکے اور تعلیم و انسانی ترقی کی سہولیات تک رسائی بہتر بنائی جا سکے۔ دوسری جانب، سیٹلائٹ دفاتر خاص طور پر ان دور افتادہ علاقوں میں کام کرتے ہیں جہاں رسائی کے مسائل یا امن و امان کی صورتحال درپیش ہوتی ہے۔این سی ایچ ڈی کے اس پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کو 2,257 ملازمین کی افرادی قوت سہارا دے رہی ہے، جو مختلف اضلاع میں کمیونٹی سطح پر پروگراموں کے نفاذ اور خدمات کی فراہمی میں مصروف ہیں۔ضلعی اور سیٹلائٹ دفاتر کے اس مضبوط نیٹ ورک سے نگرانی، خدمات کی فراہمی اور مقامی شمولیت میں بہتری آنے کی توقع ہے، جو جامع اور پائیدار قومی ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک