مالی سال 2025-26 کے پہلے نصف میں پاکستان نے ایک تاریخی مالی سنگِ میل حاصل کیا اور مجموعی آمدن 10 ہزار ارب روپے سے بڑھ گئی۔جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران مجموعی آمدن 10,683.6 ارب روپے رہی جو گزشتہ سہ ماہی میں حاصل ہونے والے 6,199.7 ارب روپے کے مقابلے میں 72 فیصد زیادہ ہے۔اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکس شعبے کی مضبوط کارکردگی رہی۔ وفاقی ٹیکس آمدن جولائی تا ستمبر 2025 کے 2,884 ارب روپے سے بڑھ کر 6,160.8 ارب روپے تک پہنچ گئی۔سیلز ٹیکس، براہِ راست ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیاجو بہتر معاشی سرگرمیوں اور سخت اقدامات کا نتیجہ ہے۔صرف سیلز ٹیکس میں 105 فیصد اضافہ ہوا جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور ٹیکس ادائیگی کو یقینی بنانے میں کامیاب رہی۔
غیر ٹیکس آمدن میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ سہ ماہی کے 2,984.5 ارب روپے سے بڑھ کر 3,954.2 ارب روپے تک جا پہنچی۔اس اضافے کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منتقل کیے گئے زیادہ منافع اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں بڑھتی ہوئی وصولیاں تھیں۔اگرچہ آمدن میں ریکارڈ اضافہ ہوا تاہم وفاقی حکومت کے اخراجات میں بھی 137 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 9,591.1 ارب روپے ہو گئے۔ اس کی بڑی وجہ قرضوں کی ادائیگی کا بڑھتا ہوا بوجھ ہے۔آمدن میں تیز رفتار اضافہ مالی صورتحال میں بہتری کی علامت ہے لیکن اخراجات خصوصا اندرونی اور بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی کو قابو میں رکھنا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔طویل المدتی مالی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ آمدن میں مسلسل اضافہ برقرار رکھا جائے اور ساتھ ہی اخراجات پر سخت کنٹرول کیا جائے۔صوبائی سطح پر پنجاب اور سندھ نے نمایاں کارکردگی دکھائی۔ پنجاب کی ٹیکس آمدن 225 ارب روپے جبکہ سندھ کی وصولیاں جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 279.868 ارب روپے رہیں۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک