فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ٹیکس آمدن میں نمایاں طور پر 114 فیصد اضافے کی اطلاع دی ہے جس کے بعد ٹیکس وصولیاں 6,160.8 ارب روپے تک پہنچ گئیں۔ یہ بات ویلتھ پاکستان کو دستیاب ایک دستاویز میں بتائی گئی ہے۔یہ اضافہ جولائی تا ستمبر 2025 کے دوران حاصل ہونے والے 2,884 ارب روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے جو ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے اور آمدن بڑھانے کے لیے حکومت کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیکس آمدن میں یہ اضافہ زیادہ تر سیلز ٹیکس، براہ راست ٹیکس اور کسٹمز ڈیوٹی میں نمایاں بہتری کی وجہ سے ہوا۔ سیلز ٹیکس کی وصولیوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیاجو معاشی سرگرمی میں بہتری اور ٹیکس کی بہتر ادائیگی کو ظاہر کرتا ہے۔ براہ راست ٹیکس میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا جبکہ کسٹمز ڈیوٹی میں اضافہ تجارتی سرگرمی بڑھنے کے مطابق رہا۔
دوسری جانب نان ٹیکس آمدن بھی بڑھ کر 3,799.5 ارب روپے ہو گئی جو جولائی تا ستمبر کے دوران 2,984.5 ارب روپے تھی۔نان ٹیکس آمدن میں اضافے کی بڑی وجہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے منتقل کیا گیا زیادہ منافع اور پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی زیادہ وصولیاں تھیں۔شاندار آمدن کے باوجود وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات میں 137 فیصد اضافہ ہوا اور یہ جولائی تا ستمبر 2025 کے 4,047 ارب روپے سے بڑھ کر 9,591.1 ارب روپے تک پہنچ گئے۔اخراجات میں اضافے کی بنیادی وجہ ملکی اور غیر ملکی قرضوں پر مارک اپ ادائیگیوں میں 159 فیصد اضافہ تھاجو مالی دبا ومیں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔اگرچہ آمدن میں مضبوط اضافہ حوصلہ افزا ہے لیکن اخراجات پر موثر کنٹرول، خاص طور پر قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات کو محدود کرنا، طویل مدت میں مالی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آمدن میں اضافے اور بڑھتے اخراجات میں توازن قائم رکھنا معاشی ترقی کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ہوگا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک