i آئی این پی ویلتھ پی کے

مونگ پھلی کے بیج بہتر بنانے اور سپلائی چین قائم کرنے کے لئے پاک چین کمپنیوں کا اشتراک: ویلتھ پاکستانتازترین

January 29, 2026

ایک چینی زرعی ٹیکنالوجی کمپنی اور پاکستان کی ایک زرعی کاروباری کمپنی نے مونگ پھلی کے بہتر بیج متعارف کرانے اور مقامی سپلائی چین قائم کرنے کے لیے باہمی اشتراک کیا ہے۔ یہ شراکت داری پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی اور زرعی تعاون کی عکاسی کرتی ہے۔صوبہ شانڈونگ کی کمپنی شانڈونگ رینبو ایگریکلچرل ٹیکنالوجی کمپنی لمیٹڈ اور پاکستان کی عقبی کارپوریشن لمیٹڈ کے نمائندوں، جنہوں نے حال ہی میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والی پاک چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس میں شرکت کی، نے بتایا کہ اس شراکت داری کا مقصد مونگ پھلی کی کاشت کو جدید بنانا اور پاکستان میں طویل المدتی زرعی ترقی کو فروغ دینا ہے۔شانڈونگ رینبو ایگریکلچرل ٹیکنالوجی کمپنی کی اوورسیز پراجیکٹ کوآرڈینیٹر کیان ہونگ نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ کمپنی ایسے مونگ پھلی کے بیج تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو پاکستان کی مٹی اور آبپاشی کے حالات کے مطابق ہوں کیونکہ یہ حالات چین سے مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کمپنی بیج فراہم کرنے، زرعی فارموں میں سرمایہ کاری کرنے، مقامی سطح پر مونگ پھلی اگانے اور پیداوار کو چین برآمد کرنے پر غور کر رہی ہے۔انہوں نے کانفرنس کو ایک منظم اور مثر پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ان کی کمپنی کو پاکستان کی زرعی منڈی، خاص طور پر بیجوں کے شعبے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ شراکت داریاں بنانے اور سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لینے کا موقع بھی ملا۔ انہوں نے بتایا کہ شانڈونگ رینبو گزشتہ دو برسوں سے مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مونگ پھلی کے بیجوں پر کام کر رہی ہے اور مختلف آزمائشی تجربات بھی کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کی مہمان نوازی اور ماحول کی بھی تعریف کی۔عقبی کارپوریشن لمیٹڈ کے سربراہ زرعی کاروبار ڈاکٹر عاطف مجید نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے شانڈونگ رینبو کے ساتھ باضابطہ شراکت داری قائم کر لی ہیجس سے پاکستان کے زرعی شعبے کو عملی فوائد حاصل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس نے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اکٹھا کیاجس سے بیجوں، زرعی آلات، ٹیکنالوجی اور پراسیسنگ کے شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوئے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں مزید معاہدوں کی توقع ہے۔منصوبے کے خدوخال بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر عاطف نے کہا کہ شراکت دار پاکستان میں مونگ پھلی کی مکمل سپلائی چین قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس میں افزائشِ نسل اور تحقیق کے مراکز، ابتدائی پراسیسنگ پلانٹس، کولڈ اسٹوریج اور گودام شامل ہوں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مونگ پھلی کی مختلف اقسام مختلف مقاصد، خاص طور پر بھوننے کے لیے استعمال ہوتی ہیں اور شانڈونگ رینبو نے ایسے خصوصی بیج تیار کیے ہیں جو بدبو کو کم کرتے ہیں جبکہ کرسپ پن برقرار رکھتے ہیں۔ ان بیجوں کو مقامی اقسام کے ساتھ ملا کر پاکستان کے حالات کے مطابق مزید بہتر بنایا جائے گا۔ڈاکٹر عاطف نے کہا کہ اس تعاون کا مقصد مقامی صلاحیت کو مضبوط بنانا، بیجوں کے معیار کو بہتر کرنا اور کسانوں میں ان بیجوں کے استعمال کو فروغ دینا ہیجیسے جیسے یہ منصوبہ معاہدوں سے عملی مرحلے میں داخل ہوگا۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک