پنجاب حکومت کی جانب سے شیخوپورہ میں قائم کیا گیا قائداعظم بزنس پارک تیزی سے پنجاب کے صنعتی شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ایک بڑا مرکز بن کر ابھر رہا ہے۔ اس منصوبے سے خطے میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع اور صنعتی ترقی کی امید کی جا رہی ہے۔میجر (ر) جاوید اقبال، چیئرمین پنجاب انڈسٹریل ڈیولپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ اب تک 11 فیکٹریوں نے پیداوار شروع کر دی ہیجبکہ مزید 43 فیکٹریاں یا تو زیرِ تعمیر ہیں یا تکمیل کے قریب ہیں۔انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار تقریبا 174 ارب روپے کی سرمایہ کاری کے وعدے کر چکے ہیں جو جلد عملی شکل اختیار کرنے کی توقع ہے۔انہوں نے قائداعظم بزنس پارک کو لاہوراسلام آباد موٹروے پر شیخوپورہ کے مقام پر واقع ایک مثالی منصوبہ قرار دیا جو لاہور اور شیخوپورہ سمیت قریبی شہروں سے بہترین رابطہ فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس کی اسٹریٹجک لوکیشن اور جدید انفراسٹرکچر اسے سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے لیے ایک اہم مرکز بناتا ہے۔
یہ منصوبہ 1,860 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا ہے جبکہ اس کے ساتھ 200 ایکڑ اضافی زمین مزدور کالونی کے لیے مختص کی گئی ہے، جہاں تقریبا 30 ہزار مزدوروں کو رہائش فراہم کی جائے گی۔ حکومت نے اس بزنس پارک کو خصوصی اقتصادی زون قرار دیا ہے جس کے تحت سرمایہ کاروں کو مشینری اور دیگر سرمایہ جاتی سامان کی درآمد پر ایک بار کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ اور 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ حاصل ہوگی۔پارک کے ماسٹر پلان میں جدید دفاتر، کلسٹر زونز اور ایسی جدید سہولیات شامل ہیں جو مقامی اور بین الاقوامی کاروباری اداروں کی ضروریات کو پورا کریں گی۔ پارک کے مرکزی حصے میں 2 لاکھ مربع فٹ پر مشتمل سینٹر وے بزنس اسکوائر تعمیر کیا جا رہا ہے جبکہ ایک علیحدہ موٹروے انٹرچینج پر بھی جلد کام شروع کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کومبائنڈ ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔چیئرمین کے مطابق، اس منصوبے سے تقریبا 2 لاکھ 50 ہزار ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے جبکہ ہنر مند خواتین کی افرادی قوت کی شمولیت کو بھی فروغ دیا جائے گا۔صنعتی یونٹس اور دفاتر کے علاوہ، بزنس پارک میں گارمنٹس سٹی بھی قائم کی جا رہی ہیجو 90 ہزار مربع فٹ رقبے پر مشتمل ہوگی۔ اس کثیرالمنزلہ عمارت کی ہر منزل 3 ہزار مربع فٹ پر محیط ہوگی جہاں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس صنعت سے وابستہ مینوفیکچرنگ، اسٹوریج اور کاروباری سرگرمیاں انجام دی جا سکیں گی۔
بلا تعطل بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان نے شیخوپورہ میں ایک مخصوص 220 کے وی گرڈ اسٹیشن فعال کر دیا ہے۔ این جی سی کے حکام کے مطابق یہ منصوبہ 4 ارب روپے سے زائد لاگت سے مکمل کیا گیا ہیجس کی مالی معاونت حکومت نے کیش ڈپازٹ لون سہولت کے تحت کی اور اسے خصوصی اقتصادی زون میں قائم بڑی صنعتوں کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔کاروباری برادری نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر فہیم الرحمن سیگل نے کہا کہ ٹیکس میں چھوٹ جیسی مراعات کی وجہ سے متعدد صنعتی گروپس اس زون میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مکمل ہونے کے بعد یہ صنعتی کلسٹر خاص طور پر ٹیکسٹائل اور گارمنٹس کے شعبے میں برآمدی پیداوار بڑھا کر قومی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔تاہم، بعض صنعت کاروں نے احتیاط کا مشورہ بھی دیا ہے۔ منظورالحق ملک، جو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق علاقائی چیئرمین رہ چکے ہیں، نے کہا کہ حکومت کو سرمایہ کاروں پر غیر ضروری شرائط عائد کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور صنعتی یونٹس کو منافع بخش بننے کا موقع دینا چاہیے، اس سے پہلے کہ ان پر مختلف محصولات کا بوجھ ڈالا جائے۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک