پاکستان میں دس سال سے زائد عرصے سے کام کرنے والی ایک چینی زرعی ٹیکنالوجی کمپنی نے پائیدار زرعی ترقی کے لیے طویل المدتی شراکت داریوں کے ذریعے اپنی مقامی سرگرمیوں کو مزید وسعت دینے کی خواہش ظاہر کی ہے جس میں بیجوں کی افزائش اور پیداوار پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔انہوئی سنگو ایگری ٹیک کمپنی لمیٹڈ کے انٹرنیشنل ڈیپارٹمنٹ کے منیجر جن شا نے ویلتھ پاکستان کو بتایا کہ ان کی کمپنی گزشتہ 12 برسوں سے پاکستان میں کام کر رہی ہے اور پہلے ہی کئی مقامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر رہی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کے اگلے مرحلے کی ترقی کا مرکز مقامی سطح پر مزید مضبوط بنیادیں قائم کرنا ہیجن میں پاکستان میں ہی بیجوں کی افزائش اور پیداوار شامل ہے جو مستقبل کی ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔جن شا نے بتایا کہ کمپنی پاکستان میں بیجوں کے مختلف کاروبار سے وابستہ ہے جن میں ہائبرڈ چاول، مکئی، سورج مکھی، کینولا اور سبزیوں کے بیج شامل ہیں۔ کمپنی بڑے درآمد کنندگان سے لے کر چھوٹی کمپنیوں تک مختلف شراکت داروں کے ساتھ کام کرتی ہے اور جہاں تعاون ایمانداری اور طویل المدتی وابستگی پر مبنی ہو وہاں سب کو یکساں سپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی چین کی جدید بیج افزائشی ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کرا رہی ہیجو مقامی طور پر استعمال ہونے والی پرانی اقسام کے مقابلے میں بہتر پیداوار دیتی ہے جس سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ ہوتا ہے۔جن شا کے مطابق زیادہ پیداوار سے کسانوں کو بہتر کمائی کے مواقع ملتے ہیں، برآمدات کو فروغ ملتا ہے اور مجموعی طور پر زرعی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔ انہوں نے اس تعاون کو باہمی فائدے کا ایک سلسلہ قرار دیا جس میں چینی بیج ٹیکنالوجی پاکستانی پیداوار کو سہارا دیتی ہے جبکہ زرعی برآمدات دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی ستون ہے اور بہتر بیجوں کے استعمال سے سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار بڑھا کر عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق مثر وسائل کے استعمال سے حاصل ہونے والی زیادہ پیداوار عام غذائی اشیا کو صارفین کے لیے سستا بھی بنا سکتی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ کمپنی کینولا کی کاشت اور پراسیسنگ کے ذریعے خوردنی تیل کے معیار کو بہتر بنانے پر بھی کام کر رہی ہے جو بیجوں سے متعلق دیگر منصوبوں کے ساتھ مختلف مراحل میں جاری ہیں۔
جن شا نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی صرف تجارت کے بجائے مقامی صنعت کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتی ہیجس کے باعث کمپنی ایسے شراکت دار تلاش کر رہی ہے جو طویل مدت کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کریں اور خطرات بھی مل کر برداشت کریں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ طویل المدتی منصوبہ بندی مشکل ہوتی ہے کیونکہ اکثر کمپنیاں فوری منافع چاہتی ہیں لیکن چین کا تجربہ بتاتا ہے کہ بتدریج اور مستقل ترقی زیادہ بہتر نتائج دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمپنی بیجوں کی فراہمی کے لیے ملا جلا طریقہ اپنائے ہوئے ہے جس میں کچھ اقسام پاکستان میں جبکہ کچھ چین میں تیار کی جاتی ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ کون سی جگہ زیادہ موزوں ہے۔ پاکستان کے نئے بیج قوانین کے تحت کمپنی مقامی پیداوار اور درآمدات کے درمیان توازن قائم رکھنا چاہتی ہیجو اس کی مقامی پالیسی سے وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔ جن شا نے کہا کہ کمپنی پاکستان کے زرعی شعبے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بتدریج توسیع، گہری مقامی شمولیت اور طویل المدتی تعاون پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ حالیہ پاکستان-چین زرعی سرمایہ کاری کانفرنس کو مستقبل میں گہرے تعاون کے لیے ایک مثبت آغاز قرار دیاتاہم پائیدار نتائج کے لیے درست شراکت داروں کے انتخاب پر بھی زور دیا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک