خلیجی خطے میں جاری کشیدگی پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتیں، فریٹ چارجز اور جنگی خطرات کی انشورنس لاگت بڑھ رہی ہے، جس سے درآمدی بل اور بیرونی کھاتوں پر دبا بڑھ رہا ہے۔اب مہنگائی کا خطرہ صرف خام تیل کی عالمی قیمتوں تک محدود نہیں رہا۔ آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال کے باعث پاکستان کو توانائی کی درآمدات پر زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑ رہی ہے، کیونکہ تیل اور ایل این جی انہی بحری راستوں سے آتے ہیں جو ممکنہ رکاوٹوں کا شکار ہیں۔ ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں مسلسل اضافہ عموما تیزی سے فریٹ، خوراک اور دیگر صارف اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے پالیسی سلوشنز لیب کی ایک رپورٹ بعنوان امریکہ-اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ: پاکستان کی معیشت پر اثرات کے مطابق اس کے اثرات کا انحصار جنگ کی شدت اور دورانیے پر ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ اوسط مہنگائی 11 سے 13 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے 5 سے 7 فیصد ہدف سے تقریبا دوگنا ہے، جب بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات، روپے کی قدر میں کمی اور خلیجی ممالک سے ترسیلاتِ زر میں ممکنہ کمی کو مدنظر رکھا جائے۔
رپورٹ کے مطابق تیل کی درآمدی لاگت تقریبا 6.2 ارب ڈالر تک بڑھ سکتی ہے۔ اس میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جی ڈی پی کی شرح نمو 3.01 سے 3.33 فیصد تک محدود ہو سکتی ہے، اور اگر توانائی کی قلت برقرار رہی اور صنعتوں کے لیے گیس کی فراہمی مزید کم ہوئی تو یہ 3 فیصد سے بھی نیچے جا سکتی ہے۔ پاکستان کے تجرباتی شواہد کے مطابق تیل کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ مجموعی مہنگائی میں تقریبا 0.2 سے 0.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ کرتا ہے۔پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی مارچ 2026 کی رپورٹ ایران-خلیج تنازع کے پاکستان پر معاشی اور بینکاری اثرات میں بھی بیرونی خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے مطابق پاکستان کی کمزوری کی بڑی وجوہات میں توانائی کی درآمدات کی بڑھتی ہوئی لاگت، بیرونی توازن پر دبا اور مہنگائی کے اثرات شامل ہیں۔ پیٹرولیم درآمدات کل درآمدی بل کا تقریبا پانچواں حصہ ہیں، جبکہ عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ سالانہ درآمدی بل میں 1.4 سے 4.7 ارب ڈالر تک اضافہ کر سکتا ہے۔پائیدار ترقی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عابد قیوم سلیری کے مطابق خطرہ صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں۔
انہوں نے کہا، یہ جنگ صرف تیل کا نہیں بلکہ فریٹ، انشورنس اور لاجسٹکس کا بھی جھٹکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ خلیجی خطے میں جنگی خطرات کی انشورنس لاگت میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ شپنگ میں رکاوٹیں اور اضافی ایندھن چارجز پاکستان کی درآمدی لاگت کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تیل اور رسد کے جھٹکے مہنگائی کے مستقل رہنے کی بڑی وجہ بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ دبا ایسے وقت میں آ رہا ہے جب معیشت پہلے ہی نازک مرحلے میں ہے۔ جولائی تا فروری مالی سال 2026 کے دوران پاکستان کی درآمدات 41.8 ارب ڈالر جبکہ کرنٹ اکانٹ خسارہ 0.7 ارب ڈالر رہا۔ ایسے میں ایندھن اور فریٹ اخراجات میں معمولی اضافہ بھی بیرونی توازن کو مزید خراب کر سکتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مالی سال 2025 کے جولائی تا مارچ کے دوران ٹرانسپورٹ سیکٹر نے پیٹرولیم مصنوعات کا تقریبا 80 فیصد استعمال کیا، اس لیے ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ تیزی سے فریٹ، خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر مسعود خٹک کے مطابق پاکستان کی کمزوری کا بڑا سبب آبنائے ہرمز ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تقریبا پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق معمولی رکاوٹ بھی ٹینکر اور شپنگ اخراجات بڑھا دیتی ہے، جس سے خلیجی سپلائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے ایندھن مہنگا ہو جاتا ہے۔
پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق مالیاتی نظام پر بھی اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ بینکاری شعبے کا تجارتی فنانسنگ ایکسپوژر 9 سے 22 ارب ڈالر کے درمیان رہتا ہے، اس لیے شپنگ، قیمتوں اور زرِمبادلہ میں اتار چڑھا فنانسنگ اور لیکویڈیٹی کو متاثر کر سکتا ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2026 کے جولائی تا جنوری کے دوران پاکستان کی 53 فیصد سے زائد ترسیلاتِ زر خلیجی ممالک سے آئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں عدم استحکام بیرونی آمدن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔مالیاتی منڈیاں پہلے ہی ان خطرات کو محسوس کر رہی ہیں۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس 5,406 پوائنٹس (3.41 فیصد) کمی کے ساتھ 152,910 پر بند ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہوا۔نجیب کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کرنٹ اکانٹ خسارے کو بڑھا سکتا ہے اور مہنگائی کے دبا کو دوبارہ جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے توانائی کی قیمتوں سے بچا ، زرِمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، درآمدات میں توازن اور برآمدات و پیداوار بڑھانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔مجموعی طور پر پاکستان کے لیے سبق یہ ہے کہ خلیجی کشیدگی صرف خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ براہِ راست معاشی خطرہ بھی ہے۔ جب تک شپنگ اور انشورنس کے اخراجات بلند رہیں گے، توانائی کی مکمل بندش نہ ہونے کے باوجود بھی مہنگائی کا دبائو بڑھتا رہے گا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی ویلتھ پاک