i بین اقوامی

ایران کا اسرائیل میں آئل اسٹوریج اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعوی، معمولات زندگی شدید متاثرتازترین

March 27, 2026

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 83ویں لہر کے تحت امریکا اور اسرائیل کے اہم فوجی و اسٹریٹجک اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کرنے کا دعوی کیا ہے، جسے ایران نے جوابی کارروائی قرار دیا ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جمعہ کی علی الصبح اعلان کیا کہ آپریشن ٹرو پرومس 4 کی 83ویں لہر کے دوران خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اس کارروائی کو یا ابا عبداللہ الحسین کے کوڈ کے تحت انجام دیا گیا اور اسے جنوبی علاقوں کے عوام کے نام منسوب کیا گیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں میں اسرائیل کے شہر اشدود میں آئل ڈپو اور اسٹوریج ٹینکس، موڈیعین کے علاقے میں فوجی اہلکاروں کی تنصیب، اور خطے میں امریکی فوجی انفارمیشن ایکسچینج سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں واقع امریکی اڈہ الظفرہ اور دیگر فوجی تنصیبات، کویت میں علی السالم ایئر بیس پر طیاروں اور ڈرونز کے ہینگرز، جبکہ شیخ عیسی بیس پر پیٹریاٹ میزائل سسٹم کی مرمت گاہ کو بھی نشانہ بنانے کا دعوی کیا گیا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس آپریشن میں جدید ہتھیار استعمال کیے گئے، جن میں طویل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل، ٹھوس و مائع ایندھن والے سسٹمز، ملٹی وار ہیڈ اور خودکش و لوئٹرنگ ڈرونز شامل ہیں۔بیان میں دعوی کیا گیا کہ یہ حملے اللہ کے فضل سے مکمل کامیابی کے ساتھ انجام دئیے گئے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ ان حملوں کے باعث اسرائیل میں معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں اور شہری مسلسل سائرن اور پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔بیان کے اختتام پر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ہم تمہیں تلاش کر لیں گے اور تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ایرانی حکام کے مطابق اب تک اس آپریشن کے تحت 83 حملوں کی لہریں جاری کی جا چکی ہیں، جن میں اسرائیلی فوجی تنصیبات اور خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔یہ کارروائیاں 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع کی گئیں، جن میں ایرانی سپریم لیڈرعلی خامنہ ای سمیت اعلی فوجی کمانڈرز اور دیگر افراد جاں بحق ہوئے۔ ادھر لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی فورسز نے بھی ایران کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لینے کا دعوی کیا ہے۔

ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی کے مطابق امریکی اہلکار اب فوجی اڈوں کے بجائے ہوٹلوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جسے انہوں نے امریکا کی کمزوری اور پسپائی قرار دیا۔ادھر ایرانی فوج نے اسرائیل کے اہم شہر حیفہ کی بندرگاہ کو بھی ڈرون حملوں میں نشانہ بنانے کا دعوی کیا ہے، جہاں بحریہ سے متعلق تنصیبات اور جنگی طیاروں کے لیے ایندھن ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو نقصان پہنچنے کا کہا گیا ہے۔ علاوہ ازیں ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ جنگ شروع ہونے سے اب تک 800 امریکی فوجی ہلاک اور 5 ہزار زخمی ہوئے جبکہ 1321 اسرائیلی فوجی بھی مارے گئے۔ترجمان ایرانی فوج نے کہا کہ جنگ میں 17 امریکی اڈے تباہ کئے ہیں، امریکی فوج کا ہوٹلوں میں چھپنا ذلت آمیز پسپائی ہے۔ترجمان ایرانی فوج نے مزید کہا کہ امریکی فوجی حکمت عملی کی ناکامی اس کی ساکھ کو دھچکا ہے اور ہم اپنے مطالبات پورا ہونے تک امریکا کو جانے نہیں دیں گے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے گزشتہ روز مغربی ایران میں لانچ سائٹس پر 20 حملے کئے ہیں۔

ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں آئی ڈی ایف کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ نے ان مقامات پر 70 بم گرائے اور یہ مقامات بیلسٹک میزائلوں کو لانچ کرنے اور فضائی دفاعی نظام کو محفوظ رکھنے کے لئے استعمال ہو رہی تھیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مقامات پر فوجی اہلکاروں کا بھی خاتمہ کر دیا گیا ہے اور اسرائیلی فضائیہ بلا تعطل ایرانی حکومت کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں پر حملے کر رہی ہے۔ ادھرایران کے ساحلی شہر بندر عباس میں فضائی حملے کے بعد ایک کثیر المنزلہ رہائشی عمارت ملبے کا ڈھیر بن گئے۔خبر ایجنسی کے مطابق ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہر کے مشرقی حصے میں واقع رہائشی علاقے میں واقع اس عمارت کا صرف ملبہ باقی رہ گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عمارت کے اطراف میں 2 عمارتوں کو بھی نقصان ہوا ہے لیکن وہ اپنی جگہ قائم ہیں، مقامی حکام کا کہنا ہے کہ ایک لڑاکا طیارے نے اس عمارت کو نشانہ بنایا جبکہ ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس حملے میں 3 افراد شہید ہوئے ہیں۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی