i بین اقوامی

ایران کیخلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ نہیں ہے، ٹرمپ نے مشیروں کو اہم پیغام دے دیاتازترین

June 04, 2026

امریکی میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو آگاہ کیا ہے کہ امریکا فی الحال ایران کے خلاف دوبارہ جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا اور کشیدگی کے معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے مشیروں سے کہا ہے کہ جب تک ایران کی جانب سے امریکی فوجیوں یا امریکی مفادات کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔امریکی اخبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ خطے میں جاری تنازعات کو مزید وسعت دینے کے بجائے سفارتی کوششوں کے ذریعے مسائل کے حل کی خواہاں ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن مشرقِ وسطی میں جنگ کے دائرے کو بڑھانے سے گریز کرنا چاہتا ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف سفارتی راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی پر بھی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے چوتھے سہ فریقی مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں دونوں فریقوں نے جنگ بندی پر اتفاق کیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اسرائیل اور لبنان نے نہ صرف جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے بلکہ مستقبل میں مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے 22 جون کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے، جہاں سرحدی سکیورٹی، کشیدگی میں کمی اور دیگر اہم امور پر بات چیت کی جائے گی۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کرتا ہے اور اسرائیل و لبنان کے درمیان مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں، تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور آنے والے دنوں میں سفارتی پیش رفت اہم کردار ادا کرے گی۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی