i بین اقوامی

انتخابات غیرجانبدار اور شفاف نہ ہوئے تو بنگلہ دیش میں عدم استحکام پیدا ہوگا، شیخ حسینہتازترین

January 29, 2026

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک کے آئندہ انتخابات پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انتخابات غیرجانبدار اور شفاف نہ ہوئے تو بنگلہ دیش طویل عرصے کیلئے عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔امریکی خبر رساں ا دارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے ای میل کے ذریعے بھیجے گئے ایک بیان میں دعوی کیا کہ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی عبوری حکومت نے ان کی جماعت عوامی لیگ کو انتخابات سے باہر رکھ کر جان بوجھ کران کے حامیوں کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے۔شیخ حسینہ نے لکھا کہ جب بھی کسی اہم حصے کی سیاسی شمولیت کو روکا جاتا ہے تو اس سے تلخی بڑھتی ہے، اداروں کی ساکھ کمزور ہوتی ہے اور مستقبل میں عدم استحکام کے حالات پیدا ہوتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حکومت جو کسی کو باہر رکھ کر قائم کی گئی ہو تقسیم شدہ قوم کو متحد نہیں کر سکتی۔بنگلہ دیش میں 12 فروری کے انتخابات میں 1.27 کروڑ سے زائد افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔ یہ انتخابات گزشتہ دہائیوں کے سب سے اہم انتخابات سمجھے جا رہے ہیں اور شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد پہلا موقع ہے جب عوام ووٹ ڈالیں گے۔

بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈائون سے متعلق مقدمے میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔انتخابی مہم گزشتہ ہفتے شروع ہوئی جس میں دارالحکومت ڈھاکہ اور دیگر شہروں میں جلسے منعقد کیے گئے۔محمد یونس جو 5 اگست 2024 کو شیخ حسینہ کے انڈیا فرار ہونے کے تین دن بعد واپس آئے تھے، نے شفاف انتخابات کا وعدہ کیا ہے۔ تاہم ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ عمل واقعی جمہوری معیار پر پورا اترے گا اور عوامی لیگ پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا کیا یہ حقیقت میں سب کو حصہ لینے کا موقع دے گا؟۔محمد یونس کے دفتر نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز انتخابات کو منظم رکھنے کو یقینی بنائیں گی اور کسی کو بھی دھونس یا تشدد کے ذریعے نتائج متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بین الاقوامی مبصرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی اس عمل کی نگرانی کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔انتخابی کمیشن کے مطابق تقریبا 500 غیر ملکی مبصرین، جن میں یورپی یونین اور کامن ویلتھ کے نمائندے شامل ہیں، 12 فروری کو ہونے والے انتخابات کی نگرانی کریں گے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی