i بین اقوامی

برطانیہ کے ایوانِ بالا میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی کی منظوریتازترین

January 22, 2026

برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا نے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے سے روکنے کے حق میں ووٹ دیا ہے جس کے بعد حکومت پر دبائو بڑھ گیا ہے کہ وہ آسٹریلیا میں نافذ کردہ قانون کو اپنائے۔فرانسیسی خبر رساں ا دارے کے مطابق وزیرِاعظم کیئر سٹارمر نے پیر کے روز کہا تھا کہ وہ کسی بھی آپشن کو رد نہیں کر رہے اور انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے کا وعدہ کیا تھا۔تاہم ان کی حکومت قانون سازی سے پہلے موسمِ گرما میں متوقع مشاورت کے نتائج کا انتظار کرنا چاہتی ہے۔حکومتی جماعت اور اپوزیشن دونوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ برطانیہ بھی آسٹریلیا کی پیروی کرے جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کو دسمبر سے سوشل میڈیا ایپس کے استعمال سے روک دیا گیا ہے۔کنزرویٹو پارٹی کے رکن جان نیش کی پیش کردہ ترمیم بدھ کے روز ایوانِ بالا میں منظور کر لی گئی جس کے حق میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے گئے۔ترمیم کی مخالفت میں کم ووٹ آئے اور اس کی حمایت لیبر اور لبرل ڈیموکریٹ جماعت کے اراکین نے بھی کی۔

جان نیش نے کہا کہ آج ایوان نے بچوں کے مستقبل کو ترجیح دی ہے، اور یہ ووٹ اس نقصان کو روکنے کے عمل کی شروعات ہے جو سوشل میڈیا ایک پوری نسل کو پہنچا رہا ہے۔ووٹنگ سے قبل وزیراعظم کے دفتر نے کہا تھا کہ حکومت اس ترمیم کو قبول نہیں کرے گی، جو اب ایوانِ زیریں میں پیش کی جائے گی جہاں لیبر پارٹی کو اکثریت حاصل ہے۔لیبر پارٹی کے 60 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ وزیراعظم سے مطالبہ کر چکے ہیں کہ وہ اس پابندی کی حمایت کریں۔مشہور شخصیات جن میں ایک معروف اداکار بھی شامل ہیں، نے حکومت سے اس تجویز کی حمایت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین اکیلے سوشل میڈیا کے نقصانات کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بچوں کے تحفظ سے وابستہ کچھ تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ ایسی پابندی لوگوں کو تحفظ کا غلط احساس دے سکتی ہے۔دسمبر میں کیے گئے ایک عوامی سروے کے مطابق برطانیہ کے 74 فیصد عوام اس پابندی کے حامی ہیں۔آن لائن سیفٹی قانون کے تحت نقصان دہ مواد کے لیے عمر کی تصدیق کا محفوظ نظام لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی