امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بنائے گئے 'بورڈ آف پیس' نے اسرائیل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے اعتراضات کے پیشِ نظر غزہ سے اسرائیل کا انخلا حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی شروع ہوگا۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ روز بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کے لئے اعلی نمائندے نکولے ملادینوف نے نیتن یاہو سے ملاقات کی جس کے بعد بورڈ کی جانب سے جاری بیان کہا گیا کہ پیس بورڈ اور اسرائیل مشترکہ اہداف پر ایک افہام و تفہیم تک پہنچ گئے ہے۔اس سے قبل اسرائیلی ویزر اعظم نیتن یاہو نے اس منصوبے پر اعتراضات اٹھائے تھے اور ان کی سکیورٹی کابینہ کے دو ارکان نے ٹرمپ کے پیش کردہ معاہدے کو ختم کرنے کے لیے ووٹنگ کا مطالبہ کیا تھا کیونکہ بورڈ کی جانب سے جاری متن میں اسرائیل کے مرحلہ وار انخلا کی بات کی گئی تھی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بورڈ کی جانب سے کہا گیا کہ یلو لائن، جو اس علاقے کی نشاندہی کرتی ہے
جہاں حماس کا اب بھی کنٹرول ہے کے پار اسرائیل کا انخلا صرف اس وقت ہوگا جب حماس کے وعدے کے مطابق ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ منصوبے کے تحت اگر اسرائیل انخلا کرتا بھی ہے تب بھی وہ ٹرمپ کی زیرِ قیادت اکتوبر کی جنگ بندی کے تحت غزہ کے بڑے حصے پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔دوسری جانب گزشتہ روز حماس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے حوالے سے طے پانے والے امور پر کاربند ہے۔ ٹیلی گرام پر جاری بیان حماس نے کہا کہ گروپ ملادینوف اور ثالثوں کی جانب سے طے پانے والے امور پر ایک واضح اور باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔امریکی صدر ٹرمپ نے جمعے کے روز حماس کی جانب سے ہتھیار ایک فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے کرنے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے مرحلہ وار انخلا پر اتفاق کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔
کریڈٹ: انڈیپنڈنٹ نیوز پاکستان-آئی این پی